البلاغ — Page 430
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۳۰ البلاغ - فریا دورد (۵۹) کے حامی بار بار اپنے پر چوں میں بیان کرتے ہیں کہ اُس میموریل سے جو انجمن نے بھیجا ہے اصل غرض یہ ہے کہ تا رسالہ امہات المومنین کو شائع ہونے سے روک دیا جائے ۔ سوئیں اسی غرض پر اعتراض کرتا ہوں۔ مجھے بہت سے خطوط اور پختہ خبروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ رسالہ امہات المومنین کی پوری طور پر اشاعت ہو چکی ہے اور ہزار کتاب مفت تقسیم ہو چکی۔ اب کونسی اشاعت باقی ہے جس کو روکا جائے۔ افسوس کیوں یہ انجمن اس بات کو آنکھ کھول کر نہیں دیکھتی کہ اب تمام شور و فریاد بعد از وقت ہے۔ ہاں اگر یہ خیال ہو کہ اگر چہ یہ میموریل جو انجمن نے بھیجا ہے بعد از وقت ہے لیکن اگر گورنمنٹ نے یہ حکم دے دیا کہ ان کتابوں کی اشاعت روک دی جائے تو اسلام کے عوام خوش ہو جائیں گے اور اس طرح پر نقض امن کا خطرہ نہیں رہے گا۔ تو میں کہتا ہوں کہ اب کون سا خطرناک جوش عوام میں پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ اس کتاب کی اشاعت پر تین مہینے گزر بھی گئے ۔ اصل حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے عوام اکثر نا خواندہ ہیں اُن کو ایسی کتابوں کے مضمون پر اطلاع بھی نہیں ہوتی اور نہ جوش پھیلنے کے وہ دن تھے جبکہ ہزار کتاب مفت تقسیم کی گئی تھی اور بلا طلب لوگوں کے گھروں میں پہنچائی گئی تھی۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خطرناک دن بخیر و عافیت گذر گئے اور یہ کتابیں نیک اتفاق سے ایسے لوگوں کی نظر تک محدود رہیں جن میں وحشیانہ جوش نہیں تھا۔ سچ ہے کہ اُن سب کو اس کتاب سے سخت آزار پہنچا لیکن خدا تعالیٰ کی حکمت اور فضل نے عوام کے کانوں سے ان گندے اور اشتعال بخش مضامین کو دور رکھا۔ بہر حال جس وقت میموریل بھیجا گیا عوام کے جوش کا وقت گذر چکا تھا ہاں جواب لکھنے کا وقت تھا اور اب تک ہے۔ کیا انجمن کو خبر نہیں کہ کتابوں کی تحریر پر جوش دکھلانا پڑھے لکھے آدمیوں کا کام ہے اور پڑھے لکھے کسی قدر تہذیب اور صبر رکھتے ہیں۔ بیچارے عوام جو اکثر نا خواندہ ہوتے ہیں وہ ایسی سخت گوئیوں سے بیخبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ باوجود یکہ صدہا اسی قسم