البلاغ — Page 422
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۲۲ البلاغ فریاد درد د که مسلمانوں میں سے صدہا معزز اور ذی رتبہ اور اہل علم اور تعلیم یافتہ جن کی نظیر انجمن کے ممبروں یا حامیوں میں تلاش کرنا تضییع اوقات ہے مجھ کو وہ مسیح موعود مانتے ہیں جس کی تعریفیں خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔ پھر یہ خیال ظاہر کرنا کہ تمام لوگ صرف ایک ملا خیال کرتے ہیں اُن لوگوں کا کام ہے جو شرم اور دیانت اور راست گوئی سے کچھ تعلق نہیں رکھتے ۔ مگر کچھ افسوس کی جگہ نہیں ۔ کیونکہ پہلے بھی راستبازوں اور نبیوں اور رسولوں کو ایسا ہی کہا گیا ہے اور یہ کہنا کہ مرزا صاحب اپنے معتقدوں کی تعداد تین سو اٹھارہ سے زیادہ نہیں بتلا سکے یہ کس قدر حق پوشی ہے۔ یہ تعداد تو صرف ان لوگوں کی لکھی گئی تھی جو سرسری طور پر اس وقت خیال میں آئے نہ یہ کہ در حقیقت یہی تعداد تھی اور اسی پر حصر رکھا گیا تھا بلکہ ہم نے اپنے ایک مضمون میں صاف طور پرشا طور پر شائع بھی کر دیا تھا کہ اب تعداد ہماری جماعت ری جماعت کی آٹھ ہزار سے کم نہیں ہوگی ۔ لیکن یہ ایک مدت کی بات ہے اور اس وقت تو بڑے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ دو ہزار اور بڑھ گئے ہیں اور ہماری جماعت اس وقت دس ہزار سے کم نہیں ہے جو پشاور سے لے کر بمبئی ، کلکتہ، کراچی، حیدر آباد دکن، مدراس ملک آسام، بخارا، غزنی ، مکہ، مدینہ اور بلا دشام تک پھیلی ہوئی ہے اور ہر ایک سال میں کم سے کم تین چار سو آدمی ہماری جماعت میں بزمرہ بیعت کنندگان داخل ہوتے ہیں۔ اگر کوئی دس دن بھی قادیان آ کر ٹھہرے تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ کس قدر تیزی سے خدا تعالیٰ کا فضل لوگوں کو ہماری طرف کھینچ رہا ہے۔ اندھوں اور نابیناؤں کو کیا خبر ہے کہ کسی عظمت کی حد تک یہ سلسلہ پہنچ گیا ہے۔ اور کیسے طالب حق لوگ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا لے کے مصداق ہو رہے ہیں۔ پھر کیا سبب ہے کہ یہ انجمن با وجود اپنی اس مختصر حیثیت اور کمزور زندگی کے آفتاب پر تھوک رہی ہے؟ کیا یہی سبب نہیں کہ ان لوگوں کو دین کی طرف توجہ نہیں۔ باوجود یکہ دور دور سے صدہا آدمی آ کر ہدایت پاتے جاتے ہیں مگر اس انجمن کا ایک ممبر بھی اب تک ہمارے پاس نہیں آیا کہ تاحق کے طالبوں کی طرح النصر : ٣