البلاغ — Page 416
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۶ البلاغ ۔ فریاد درد (۲۵) کاموں میں تو ایسے سرگرم ہیں کہ ساری تدبیریں عمل میں لاتے ہیں مگر اس بات کی کچھ بھی ضرورت نہیں سمجھتے کہ مخالفوں کی دن رات کی دجالی کوششوں کے مقابل پر اسلام کی طرف سے بھی کوشش ہوتی رہے ۔ ہم تو اس دن سے اس انجمن سے نومید ہو گئے جبکہ اس نے اس بے انتہا صلح کاری کی بنیاد ڈالی کہ ایک شخص حضرت ابوبکر اور حضرت فاروق کو سب و شتم کرنے والا اس کا پریذیڈنٹ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی اُس کے مقابل پر فرقہ بیاضیہ کا بھی کوئی شخص ممبر ہونے کا حق رکھتا ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برے الفاظ اور تو ہین اور گالی سے یاد کرتا ہے۔ کیا ایسے اصولوں پر اس انجمن کے لئے ممکن تھا کہ در حقیقت راستی کی پابندی کرسکتی ؟ (۲) دوسرا اعتراض یہ ہے کہ وہ میرے پر یہ الزام لگانا چاہتے ہیں کہ گویا میں نے اپنے میموریل ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء میں کتاب اُمہات المؤمنین کے روکنے کی درخواست کی تھی اور اقرار کیا تھا کہ وہ موجب نقض امن ہے اور یہ بھی لکھا تھا کہ گورنمنٹ یہ قانون صادر فرما دے کہ ہر ایک فریق اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے اور پھر گویا میں نے اس میموریل کے برخلاف دوسرا میموریل بھیجا۔ اس اعتراض کے جواب میں اول یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے اپنے ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کے میموریل میں ہرگز اُمہات المومنین کے روکنے کی درخواست نہیں کی۔ میرے اس میموریل کو غور سے پڑھا جائے کہ اگر چہ میں نے اس میں یہ قبول کیا ہے کہ اس رسالہ اُمہات المؤمنین سے نقض امن کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گورنمنٹ سے ہرگز یہ درخواست نہیں کی کہ اس رسالہ کو رو کے یا تلف کرے یا جلا وے بلکہ اسی میموریل میں میں نے لکھ دیا ہے کہ یہ رسالہ شائع ہو چکا ہے اور ایک ہزار مسلمان کے پاس مفت بلا درخواست بھیجا گیا ہے اور میرے بہت سے معزز دوستوں کو بھی بغیر اُن کی طلب کے پہنچایا گیا ہے پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ میں اُس میموریل میں اس کے روکنے کی درخواست