البلاغ — Page 408
۴۰۸ البلاغ - فریا دورد روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹ میں چھپا ہے اس قدر تو بیشک لکھا ہے کہ رسالہ امہات المومنین کی اشاعت روکنے کے لئے گورنمنٹ سے درخواست کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے مگر میں نے اس میموریل میں نقض امن کا خطرہ دور کرنے کے لئے یہ حقیقی تدبیر پیش کر دی ہے کہ نرمی اور تہذیب سے اس کتاب کا جواب ملنا چاہیے۔ ہر ایک محقق اور غور کرنے والا یہ گواہی دے سکتا ہے کہ رسالہ اُمہات المومنین عیسائیوں کی طرف سے کوئی پہلی تالیف نہیں ہے جس میں اس کے مؤلف نے سخت گوئی اور بہتان اور گالیوں کا طریق اختیار کیا بلکہ دیسی پادریوں کی طرف سے برابر ساٹھ سال سے یہی طریق جاری ہے اور بعض رسائل اور اخبار تو ایسی سخت گوئی اور دل دکھانے والے الفاظ سے بھرے ہوئے ہیں جو کئی درجہ اس رسالہ سے بھی بڑھ کر ہیں ۔ اب سوچ لینا چاہیے کہ اس ساٹھ سال میں مسلمانوں نے اس سخت گوئی سے تنگ آکر کس قدر گورنمنٹ میں میموریل بھیجے۔ جہاں تک میں خیال کرتا ہوں بجز اس میموریل اور اور کوئی نشان اور معجز و مانگتا اور سخت اور ٹھٹھے اور جنسی کے الفاظ اس کے منہ سے نکلتے ۔ اب ایک مسلمان جو سچا مسلمان ہو خیال کر سکتا ہے کہ ایسا شخص جو اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بد زبان ہو اور ہر روز روبرو بے ادبی اور توہین مذہب کے کلمات بولتا ہو اس کی عادات پر صبر کرنا کس قدر دشوار ہوتا ہے مگر تاہم میں نے اس قدر صبر کیا کہ ہر ایک سے ایسا صبر ہونا مشکل ہے۔ میں ہر ایک وقت جو قادیان میں رہنے کے ایام میں مجھے وہ ملتا رہا باوجود اس کے وحشیانہ جوشوں کے جو ہمارے پاک نبی کی نسبت اس کے دل میں بھرے ہوئے تھے نرمی اور خلق سے اس کے ساتھ پیش آتا رہا اور وہ بھی جنسی اور بیجا تحقیر مذہب سے باز نہ آیا اور ہمیشہ صبح یا تیسرے پہر قادیاں میں میرے مکان پر آتا اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت طرح طرح کی بے ادبیاں کرتا اور جیسا کہ ظالم پادریوں نے مشہور کر رکھا ہے بار بار یہی کہتا کہ تمہارے پیغمبر سے کوئی معجز نہیں ہوا اور نہ کوئی پیشگوئی ہوئی ۔ ملانوں نے مذہب کو رونق دینے کے لئے جھوٹے معجزوں سے کتابیں بھر دی تھیں۔ آخر ہر روز تحقیر سنتے سنتے دل کو نہایت دکھ پہنچا۔ میں نے چند دفعہ دعا کی کہ یا الہی تو قادر ہے کہ اپنے نبی کی عزت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشان ظاہر کرے یا کوئی پیشگوئی ظہور میں لاوے جس سے ہماری حجت پوری ہو اور ان دعاؤں کے بعد میرے دل کو تسلی ہوگئی کہ خدا اس کے مقابل پر ضرور میری تائید کرے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہی نشانہ پیشگوئی ہو گا۔ چنانچہ میں نے