البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 630

البلاغ — Page 408

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۰۸ البلاغ فریاد درد ۳۹ میں چھپا ہے اس قدر تو بیشک لکھا ہے کہ رسالہ امہات المومنین کی اشاعت روکنے کے لئے گورنمنٹ سے درخواست کرنا ہرگز مناسب نہیں ہے مگر میں نے اس میموریل میں نقض امن کا خطرہ دور کرنے کے لئے یہ حقیقی تدبیر پیش کر دی ہے کہ نرمی اور تہذیب سے اس کتاب کا جواب ملنا چاہیے۔ ہر ایک محقق اور غور کرنے والا یہ گواہی دے سکتا ہے کہ رسالہ امہات المومنین عیسائیوں کی طرف سے کوئی پہلی تالیف نہیں ہے جس میں اس - ہے جس میں اس کے مؤلف نے سخت گوئی اور بہتان اور گالیوں کا طریق اختیار کیا بلکہ دیسی پادریوں کی طرف سے برابر ساٹھ سال سے یہی طریق جاری ہے اور بعض رسائل اور اخبار تو ایسی سخت گوئی اور دل دکھانے والے الفاظ سے بھرے ہوئے ہیں جو کئی درجہ اس رسالہ سے بھی بڑھ کر ہیں ۔ اب سوچ لینا چاہیے کہ اس ساٹھ سال میں مسلمانوں نے اس سخت گوئی سے تنگ آ کر کس قدر گورنمنٹ میں میموریل بھیجے۔ جہاں تک میں خیال کرتا ہوں بجز اس میموریل اور اور کوئی نشان اور معجزہ مانگتا اور سخت اور ٹھٹھے اور ہنسی کے الفاظ اس کے منہ سے نکلتے ۔ اب ایک مسلمان جو سچا مسلمان ہو خیال کر سکتا ہے کہ ایسا شخص جو اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بد زبان ہو اور ہر روز رو برو بے ادبی اور توہین مذہب کے کلمات بولتا ہو اس کی عادات پر صبر کرنا کس قدر دشوار ہوتا ہے مگر تاہم میں نے اس قدر صبر کیا کہ ہر ایک سے ایسا صبر ہونا مشکل ہے۔ میں ہر ایک وقت جو قادیان میں رہنے کے ایام میں مجھے وہ ملتا رہا با وجود اس کے وحشیانہ جوشوں کے جو ہمارے پاک نبی کی نسب نبی کی نسبت اس کے دل میں بھرے ہوئے تھے نرمی اور خلق سے اس کے ساتھ پیش آتا رہا اوروہ بھی بنی اور بیجا تحقیر مذ ہب سے بازنہ آیا اور ہمشہ میں یا تیرے ہر قادیاں میں میرے مکان پر آتا اور اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت طرح طرح کی بے ادبیاں کرتا اور جیسا کہ ظالم جیسا کہ ظالم پادریوں نے مشہور کر رکھا ہے بار بار یہی کہتا کہ تمہارے پیغمبر سے کوئی معا سے کوئی معجزہ نہیں ہوا اور قيه حاشي نہ کوئی پیشگوئی ہوئی ۔ ملانوں نے مذہب کو رونق دینے کے لئے جھوٹے معجزوں سے کتابیں بھر دی تھیں۔ آخر ہر روز تحقیر سنتے سنتے دل کو نہایت دکھ پہنچا۔ میں نے چند دفعہ دعا کی کہ یا الہی تو قادر ہے کہ اپنے نبی کی عزت ظاہر کرنے کے لئے کوئی نشان ظاہر کرے یا کوئی پیشگوئی ظہور میں لاوے جس سے ہماری حجت پوری ہو اور ان دعاؤں کے بعد میرے دل کو تسلی ہو گئی کہ خدا اس کے مقابل پر ضرور میری تائید کرے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہی نشانہ پیشگوئی ہوگا۔ چنانچہ میں نے