البلاغ — Page 398
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۸ البلاغ ۔ فریا د درد (۳۰) ایسے لوگ اُس کی نظر میں کون سے ہیں۔ بہر حال قرین مصلحت یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس مشکل کام میں امراء وقت اور دوسرے تمام تاجروں اور رئیسوں اور دولت مندوں اور اہل الرائے کو مخاطب کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ اس ہمدردی کے میدان میں کون کون نکلتا ہے اور کون کون اعراض کرتا ہے۔ لیکن کیا ہی قابل تعریف وہ لوگ ہیں جو اس وقت اس کام کے لئے خدا تعالی سے توفیق پائیں گے۔ خدا ان کے ساتھ ہو اور اپنے خاص رحم کے سایہ میں ان کو رکھے۔ یہ مضمون جن جن بزرگوں کی خدمت میں پہنچے ان کا کام یہ ہوگا کہ اول اس مضمون کو غور سے پڑھیں اور پھر براہ مہربانی مجھے اطلاع بخشیں کہ وہ اس کام کے انجام کے لئے کیا تجویز کرتے ہیں اور کس کو اس خدمت کے لئے پسند کرتے ہیں۔ کام یہی ہے کہ مخالفوں کی کل کتابوں سے اعتراضات جمع کر کے ان کا جواب دیا جائے۔ اور پھر وہ کتابیں پچاس ہزار کے قریب چھپوا کر ملک میں شائع کی جائیں اور اس طرح پر موجودہ اسلامی ذریت کو سم قاتل سے بچالیا جائے۔ یہ تمام کام پچاس ہزار روپیہ کے خرچ سے بخوبی ہو سکتا ہے اور اگر ایسی کتابیں کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک دنیا میں شائع کی جائیں تو یہ سمجھو کہ ہم نے تمام ساختہ پر داختہ پادریوں اور دوسرے مخالفوں کا کا لعدم کر دیا لیکن چونکہ یہ مالی معاملہ ہے اس لئے اس میں اوّل سے خوب پرتال اور تفتیش ہونی چاہیے کہ اس کام کے لائق کون لوگ ہیں؟ اور کس کی تالیف دنیا کے دلوں کو اسلام کی طرف جھکا سکتی ہے؟ اور کون ایسا شخص ہے جس کا حسن بیان اور قوت استدلال اور طرز ثبوت عام فہم اور تسلی بخش ہے اور کس کی تقریر ہے جو تمام اعتراضات کو درہم برہم کر کے اُن کا نشان مٹاسکتی ہے۔ اسی خیال سے میں نے اس اپنے مضمون میں دس شرطیں لکھی ہیں جو میرے خیال میں ایسے مؤلف کے لئے ضروری ہیں لیکن میرے خیال کی پیروی کچھ ضروری نہیں ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ اس کام کے لئے پوری پوری غور کر کے یہ رائے ظاہر کریں کہ کس کو یہ خدمت تالیف سپر د کرنی چاہیے اور ان کے نزدیک کون ہے جو بخوبی اور خوش اسلوبی اس