البلاغ — Page 397
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۷ البلاغ ۔ فریا د درد زندگی ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں اور ضرور ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے لئے اور اپنی ذریت کے ۲۹ لئے وہ آرام کی جگہ بنادیں جو مرنے کے بعد ہمیشہ کی آرام گاہ ہوگی ۔ اے بزرگوا یقینا سمجھو کہ خدا ہے اور اس کا ایک قانون ہے جس کو دوسرے الفاظ میں مذہب کہتے ہیں۔ اور یہ مذہب ہمیشہ خدا تعالی کی طرف سے پیدا ہوتا رہا اور پھر نا پدید ہوتا رہا اور پھر پیدا ہوتا رہا مثلاً جیسا کہ تم گیہوں وغیرہ اناج کی قسموں کو دیکھتے ہو کہ وہ کیسے معدوم کے قریب ہو کر پھر ہمیشہ از سرنو پیدا ہوتے ہیں اور با ایں ہمہ وہ قدیم بھی ہیں ان کو نو پیدا نہیں کہہ سکتے ۔ یہی حال سچے مذہب کا ہے کہ وہ قدیم بھی ہوتا ہے اور اس کے اصولوں میں کوئی بناوٹ اور حدوث کی بات نہیں ہوتی اور پھر ہمیشہ نیا بھی کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل میں ایک بزرگ نبی گذرے ہیں وہ کوئی نیا مذ ہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو ابراہیم علیہ السلام کو دیا گیا تھا اور حضرت ابراہیم بھی کوئی نیا مذہب نہیں لائے تھے بلکہ وہی لائے تھے جو نوح علیہ السلام کو ملا تھا۔ اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام بھی کوئی نیا مذ ہب نہیں لائے تھے اور کوئی نیا نجات کا طریق نہیں گھڑا تھا بلکہ وہی تھا جو حضرت موسیٰ کو ملا تھا اور وہی پرانا طریق نجات کا تھا جو ہمیشہ خدائے رحیم نبیوں کے ذریعہ سے انسانوں کو سکھلاتا رہا لیکن جب طریق نجات جو قدیم سے چلا آتا تھا اور دوسرے اصول توحید میں عیسائیوں نے دھو کے کھائے اور یہودیوں کی عملی حالت بھی بہت بگڑ گئی اور تمام زمین پر شرک پھیل گیا تب خدا نے عرب میں ایک رسول پیدا کیا تا نئے سرے زمین کو تو حید اور نیک عملوں سے منور کرے۔ اُسی خدا نے ہمیں خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر مخلوق پرستی کے عقائد دنیا میں پھیل جائیں گے اور لوگوں کی عملی حالت میں بھی بہت فرق ہو جائے گا اور اکثر دلوں پر دنیا کی محبت غالب اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہو جائے گی۔ تب خدا پھر اس طرف توجہ کرے گا کہ اس راستی کے تم کو جو ہمیشہ اناج کی طرح پیدا ہوتا رہا ہے نشو ونما دے۔ سوخدا اب اپنے دین کو ایسے لوگوں کے وسیلہ سے نشو ونما دے گا جو اس کی نظر میں بہت ہی مقبول ہوں گے مگر یہ خدا تعالیٰ کو معلوم ہے کہ