البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 396 of 630

البلاغ — Page 396

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۶ البلاغ - فریا د ورد اب تک کسی ایسی انجمن پر اطلاع نہیں جو ان مقاصد کو جیسا کہ ہمارا ارادہ ہے پورا کر سکے۔ یا (۲۸) اس طرز کا جوش ان میں موجود ہو۔ میں اس بات کو قبول کرتا ہوں کہ ان انجمنوں کے ممبروں میں سے کئی ایسے صاحب بھی ہوں گے جو ہماری مراد کے موافق ان کے دلوں میں بھی تائید دین متین کا جوش ہوگا۔ لیکن وہ کثرت رائے کے نیچے ایسے دبے ہوئے معلوم ہوتے ہیں جیسا کہ طوطی کی آواز نقارخانہ میں۔ بہر حال جس قدر ہمیں ہمدردی دین کے جوش سے موجودہ انجمنوں کا کچھ نقص بیان کرنا پڑا ہے وہ معاذ اللہ اس نیت سے نہیں کہ ہم انجمنوں کے تمام ممبروں اور کارکنوں پر اعتراض کرتے ہیں بلکہ ہمارا اعتراض اس معجون مرکب پر ہے۔ جو کثرت رائے سے آج تک پیدا ہوتی رہی ہے۔ لیکن ان تمام صاحبوں کی ذاتیات اور شخصیات سے ہمیں کچھ بحث نہیں جو ان انجمنوں سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ بعض اوقات ایک صاحب کی اپنی رائے کچھ اور ہوتی ہے مگر کثرت رائے کے نیچے آ کر خواہ مخواہ اس کو ہاں سے ہاں ملانی پڑتی ہے اور نیز ہم ان انجمنوں اور ان کے کاموں کو محض بیہودہ نہیں جانتے۔ بلاشبہ مسلمانوں کی دنیوی حالت کو ترقی دینے کے لئے بہت عمدہ ذریعہ ہے۔ ہاں ہمیں افسوس کے ساتھ یہ بھی کہنا پڑتا ہے کہ موجودہ زہریلی ہوا سے مسلمانوں کے ایمان کو محفوظ رکھنے کے لئے ان میں کوئی لائق تعریف کوشش نہیں کی گئی جس قدر بنام نہاد تائید دین سامان دکھلائے گئے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس تیز اور تند اور زہریلی ہوا کا مقابلہ نہیں کر سکتے جو ہمارے ملک میں چل رہی ہے۔ اس لئے مسلمانوں کی حقیقی ہمدردی جس دل میں ہوگی وہ ضرور ہماری اس تحریر پر بول اٹھے گا کہ بلاشبہ اس وقت مسلمان اپنی دینی حالت کے رو سے قابل رحم ہیں اور بلا شبہ اب ایک ایسے احسن انتظام کی ضرورت ہے جس میں ان حملوں کی پوری مدافعت ہو جو اس عرصہ ساٹھ سال میں اسلام پر کئے گئے ہیں۔ ہم ان مردہ طبیعت لوگوں کو مخاطب کرنا نہیں چاہتے جو خود اپنی عمر کے انقلاب پر ہی نظر کر کے اب تک اس نتیجہ تک نہیں پہنچے کہ یہ مختصر