البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 630

البلاغ — Page 395

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۵ البلاغ ۔ فریا د درد نہیں ہوسکتا۔ جب اہل الرائے ایک شخص کو اس کام کے لئے مقرر کریں تب یہ دوسرا انتظام بھی ہونا چاہیے کہ اس کام کے انجام کیلئے امراء اور دولتمندوں اور ہر ایک طبقہ کے مسلمانوں ۲۷ ہے سے ایک رقم کثیر بطور چندہ کے جمع ہو اور کسی ایک امین کے پاس حسب صوابدید اس کمیٹی کے جو اس کام کو ہاتھ میں لیوے وہ چندہ جمع رہے اور حسب ضرورت خرچ ہوتا جائے۔ اب ایک دوسرا سوال اور ہے اور وہ یہ کہ اس رو جامع کے لکھنے کے لئے کون مقرر ہو۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کثرت رائے سے جو شخص لائق قرار پاوے وہی مقرر کیا جائے جیسا کہ ابھی میں بیان کر چکا ہوں۔ اور جب ہر طرح سے کسی کو شرائط کے مطابق پایا جائے اور اس کی لیاقت کی نسبت تسلی ہو جائے تو اس رڈ جامع کا کام اس کو دیا جائے اور پھر تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے اختلافات کو دور کر کے ایسے شخص کی مدد میں بدل و جان مصروف ہوں اور اپنے مالوں کو اس راہ میں پانی کی طرح بہا دیں تا جیسا کہ اس زمانہ میں مخالفوں کے اعتراض کمال کو پہنچ گئے ہیں ایسا ہی جواب بھی کمال کو پہنچ جائے اور اسلام کی فوقیت اور فضیلت تمام دینوں پر ثابت ہو جائے۔ اب اس کام میں ہرگز تا خیر نہیں چاہیے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ دلی صفائی سے اور محض خدا کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ اور بلحاظ امورمتذکرہ بالا جس کو چاہیں تجویز کر لیں۔ یہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جو صاحب اس کام کے لئے تجویز کئے جائیں وہ اس کتاب کو تین زبانوں میں جو اسلامی زبانیں ہیں لکھیں یعنی اردو اور عربی اور فارسی میں کیونکہ پادری صاحبوں نے بھی ایسا ہی کیا ہے بلکہ اس سے زیادہ کئی زبانوں میں رڈ اسلام چھپوایا ہے۔ سو ہمیں بھی یہی چاہئیے کہ ہمت نہ ہاریں بلکہ انگریزی میں بھی ایک ترجمہ اس کتاب کا شائع کریں۔ میں مدت تک اس سوچ میں رہا کہ اس ضروری کام کا سلسلہ کیونکر شروع ہو۔ آخر مجھے یہ خیال آیا کہ اکثر علماء کا تو یہ حال ہے کہ ان میں تباغض اور تحاسد بڑھا ہوا ہے ان کو زیادہ تر دیپی تکفیر اور تکذیب سے ہے۔ جس قدر پنجاب اور ہندوستان میں انجمنیں قائم ہوئی ہیں۔ مجھے