البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 630

البلاغ — Page 391

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۱ البلاغ ۔ فریا د درد اہل کتاب اور دوسرے مخلوق پرستوں سے بہت سی دکھ دینے والی باتیں سنو گے ۔ تب اگر تم (۲۳) صبر کرو گے اور زیادتی سے بچو گے تو تم خدا کے نزدیک اولوالعزم شمار کئے جاؤ گے۔ ایسا ہی اس دوسرے وقت کے لئے کہ جب ہمارے مذہب پر اعتراض کئے جائیں۔ یہ ارشاد فرمایا ہے: وجادلهم بالحكمة والموعظة الحسنة * ۔۔۔۔ وَلْتَكُن مِّنكُمْ أمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ہے سورہ آل عمران ۔ یعنی جب تو عیسائیوں سے مذہبی بحث کرے تو حکیمانہ طور پر معقول دلائل کے ساتھ کر اور چاہیے کہ تیرا وعظ پسندیدہ پیرا یہ میں ہو ۔ اور تم میں سے ہمیشہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو خیر اور بھلائی کی طرف دعوت کریں اور ایسی باتوں کی طرف لوگوں کو بلا وہیں جن کی سچائی پر عقل اور سلسلہ سماوی گواہی دیتے رہے ہیں اور ایسی باتوں سے منع کریں جن کی سچائی سے عقل اور سلسلہ سماوی انکار کرتے ہیں۔ جو لوگ یہ طریق اختیار کریں اور اس طرح پر بنی نوع کو دینی فائدہ پہنچاتے رہیں وہی ہیں جو نجات پاگئے ۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں ان دونوں پہلوؤں کو ایک ہی جگہ اکٹھے کر کے بیان کر دیا ہے۔ اور وہ آیت یہ ہے۔ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ (اخیر آل عمران ) یعنی اے ایمان والو! دشمنوں کی ایذا پر صبر کرو اور با ایں ہمہ مقابلہ میں مضبوط رہو اور کام میں لگے رہو اور خدا سے ڈرتے رہو تا تم نجات پا جاؤ۔ سو اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی ہمیں یہی ہدایت ہے کہ ہم جاہلوں کی تو ہین اور تحقیر اور بد زبانیوں اور گالیوں سے اعراض کریں اور ان تدبیروں میں اپنا وقت ضائع نہ کریں کہ کیونکر ہم بھی ان کو سزا دلاویں بدی کے مقابل پر بدی کا ارادہ کرنا میری جماعت نے جو زٹلی کی بدگوئی پر میموریل بھیجا ہے وہ سزا دلانے کی غرض سے نہیں بلکہ اس غرض سے کہ یہ لوگ محض دروغ گوئی کے طور پر سخت گوئی کا الزام لگاتے تھے لہذا گورنمنٹ اور پبلک کو دکھلایا گیا ہے کہ ان لوگوں کی نرمی اور ادب اس قسم کا ہے۔ اس سے زیادہ اس میموریل میں کوئی درخواست سزا و غیرہ کی نہیں ہے۔ منہ یہاں حضرت مسیح موعود سورۃ النحل کی آیت ۱۲۶ کا حوالہ دے رہے ہیں جو یہ ہے۔ ہے۔ اُدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (ناشر) ل ال عمران : ۱۰۵ ال عمران :۲۰۱