البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 630

البلاغ — Page 387

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۸۷ البلاغ ۔ فریا د درد تھا جنہوں نے ان تحریرات کے لئے اپنی سخت گوئی سے ہمیں مجبور کیا۔ اگر مثلاً زید محض 19 شرارت سے بکر کو یہ کہے کہ تیرا باپ سخت نالائق تھا اور زید اس کے جواب میں یہ کہے کہ نہیں بلکہ تیرا ہی باپ ایسا تھا تو اس صورت میں یہ تختی جو بکر کے کلمہ میں پائی جاتی ہے بکر کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی کیونکہ دراصل زید خود ہی اپنے درشت کلمہ سے بکر کا محرک ہوا ہے ۔سو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہی حال ہم لوگوں کا ہے۔ اس شخص کی حالت پر نہ ایک افسوس بلکہ ہزار افسوس جس نے اس واقعہ صحیحہ کو نہیں سمجھایا دانستہ اس افترا اور جھوٹ کو کسی غرض نفسانی سے استعمال میں لایا۔ اگر انجمن حمایت اسلام یا اس کے حامیوں کی یہ رائے ہے جیسا کہ ۶ رمئی ۱۸۹۸ء کے پرچہ ابز رور سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل تمام سخت الفاظ اسلام کے ایک گروہ سے یعنی اس عاجز کی طرف سے ہی ظہور میں آئے ہیں ورنہ پہلے اس سے تمام حملہ کرنے والوں کی تحریریں مہذبانہ تھیں اور کوئی سخت لفظ ان کی تالیفات میں نہ تھا تو ایسی رائے جس قدر ظلم اور جھوٹ اور بددیانتی سے بھری ہوئی ہے اس کے بیان کی حاجت نہیں خود ہر ایک شخص تاریخ تالیف دیکھ کر فیصلہ کر سکتا ہے کہ کیا ہماری کتابیں ان کی سخت گوئی سے پہلے لکھی گئیں یا بعد میں بطور مدافعت کے۔ ہمارے مخالفوں نے جس قدر ہم پر سختی کی اور جس قدر خدا سے بے خوف ہو کر النبین پر نہایت بدتہذیبی سے ہمارے دین اور ہمارے پیشوائے دین حضرت محمد مصطفی خاتم النبی حملے کئے وہ ایسا امر نہیں ہے کہ کسی پر پوشیدہ رہ سکے۔ مگر کیا یہ تمام حملے میرے سبب سے ہوئے؟ اور کیا اندر من کا اندر بجر اور پاداش اسلام اور دوسرے گندے اور نا پاک رسالے جن میں بجز گالیوں کے اور کچھ بھی نہیں تھا ان تمام تالیفات کے شائع کرنے کا میں ہی موجب تھا؟ اور کیا دیا نند کی وہ کتاب جس کا نام ستیارتھ پر کاش تھا جو براہین احمدیہ سے دو برس پہلے چھپ کر شائع بھی ہو چکی تھی کیا وہ میرے جوش دلانے کی وجہ سے لکھی گئی ؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس میں وہ سخت اور توہین کے کلمے دین اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لکھے گئے ہیں جن کے سننے سے کلیجہ کا نپتا ہے تو کیا اس سے ثابت نہیں کہ میری کتاب براہین احمدیہ