البلاغ — Page 382
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۸۲ البلاغ ۔ فریا د درد ۱۴ حلاوت بیان دیکھنے کی طرف مائل ہیں۔ پس جب تک کہ کتاب میں ہر ایک طبیعت کی ضیافت نہ ہو تب تک ایسی کتاب مقبول عوام و خواص نہیں ہو سکتی اور اس سے عام فائدہ کی امید رکھنا طمع خام ہے۔ میں بار بار کہتا ہوں کہ اب ان زہریلی ہواؤں کے چلنے کے وقت جو تد بیر کرنی چاہئیے ۔ وہ میرے نزدیک یہ ہے کہ صرف یہی بڑا کام نہ سمجھیں کہ کوئی مولوی صاحب چند ورق امهات مؤمنین کے رد میں لکھ کر شائع کر دیں بلکہ اس وقت ایک محیط نظر سے ان تمام حملوں کو دیکھنا چاہیے جو ابتدا اس زمانہ سے جبکہ اس ملک میں پادری صاحبوں نے اپنی کتابیں اور رسائل شائع کئے اس وقت تک کہ رسالہ امہات المومنین شائع ہوا۔ آیا ان اعتراضات کی کہاں تک تعداد پہنچی ہے اور ان اعتراضات کے ساتھ وہ اعتراضات بھی شامل کر لئے جائیں جو فلسفی رنگ میں کئے گئے ہیں یا ڈاکٹری تحقیقاتوں کے لحاظ سے بعض شتاب کار نادانوں نے پیش کر دیئے ہیں اور جب ایسی فہرست جس میں مجموعہ ان اعتراضات کا ہو طیار ہو جائے تو پھر ان تمام اعتراضات کا جواب نرمی اور آہستگی سے بکمال متانت اور معقولیت تحریر کرنا چاہیے۔ بے شک یہ کام بہت ہی بڑا ہے جس میں پادری صاحبوں کی شصت سالہ کارروائی کو خاک میں ملانا اور نابود کر دینا ہے۔ لیکن اہل ہمت کو خدا مد دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص اس کے دین کی مدد کرے وہ خود اس کا مددگار ہوتا ہے اور اس کی عمر بھی زیادہ کر دیتا ہے۔اے بزرگو! یہ وہ زمانہ ہے جس میں وہی دین اور دینوں پر غالب ہوگا جو اپنی ذاتی قوت سے اپنی عظمت دکھاوے۔ پس جیسا کہ ہمارے مخالفوں نے ہزاروں اعتراض کر کے یہ ارادہ کیا ہے کہ اسلام کے نورانی اور خوبصورت چہرہ کو بدشکل اور مکروہ ظاہر کریں ایساہی ہماری تمام کوششیں اسی کام کے لئے ہونی چاہئیں کہ اس پاک دین کی کمال درجہ کی خوبصورتی اور بے عیب اور معصوم ہونا بپایہ ثبوت پہنچاویں۔