البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 630

البلاغ — Page 380

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۸۰ البلاغ فریاد درد ایک نالی کو صاف کر کے پھر یہ امید رکھیں کہ فقط ہمارا اتنا ہی کام ہوا کی اصلاح کے لئے کافی ہوگا۔ نہیں بلکہ جب تک ہم شہر کی تمام نالیوں کو صاف نہ کریں اور تمام وہ گند جو طرح طرح کے اعتراضات سے مختلف طبائع میں بھرا ہوا ہے دور نہ کر دیں اور پھر وہ دلائل اور اقوال موجہ شائع نہ کریں جو اس بد بوکو بکلی دفع کر کے بجائے اس کے اسلامی پاک تعلیم کی خوشبو پھیلا دیں تب تک گویا ہم نے انسانوں کی جان بچانے کے لئے کوئی بھی کام نہیں کیا۔ اس بات کا بیان کرنا ضروری نہیں کہ پادریوں کی تعلیم سے انتہا تک ضرر پہنچ چکا ہے اور ملک میں انہوں نے ایک ایسا زہریلا تخم بو دیا ہے جس سے اس ملک کی روحانی زندگی نہایت خطرناک ہے۔ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ فسادا کثر طبائع کو خراب کرتا جاتا اور اسلام سے دور ڈالتا جاتا ہے۔ یہ دو قسم کا فساد ہے (۱) ایک تو وہ جس کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے یعنی پادریوں کی زہریلی تحریرات کا فساد (۲) دوسرا وہ فساد جو علوم جدیدہ طبعیہ وغیرہ کے پھیلنے سے پیدا ہوا ہے جس سے بہتیرے نو تعلیم یافتہ دہریوں اور ملحدوں کے رنگ میں نظر آتے ہیں۔ نہ عقائد کی پرواہ رکھتے ہیں اور نہ اعمال کی۔ اور بے قیدی کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔اب حقیقی ہمدردی قوم اور بنی نوع کی یہ نہیں ہے کہ دو چار باتوں کا جواب لکھ کر خوش ہو جائیں۔ اس جگہ یا د رکھنا چاہیے کہ اس ضروری کام کو چھوڑ کر یہ دوسری کار روائی ہرگز فائدہ نہ دے گی کہ مشتعل ہو کر گورنمنٹ عالیہ میں میموریل بھیجا جائے۔ بلکہ ہم اس صورت میں اپنے وقت اور محنت کو دوسرے کاموں میں خرچ کر کے حقیقی علاج اور تدبیر کی راہ کے سخت ہارج ہوں گے اگر اس رائے میں میرے ساتھ ایک بھی انسان نہ ہو اور تمام لوگ اس بات پر متفق ہو جائیں کہ ان زہریلی ہواؤں کی اصلاح کا حقیقی علاج یہی ہے کہ میموریل پر میموریل بھیجا جائے اور ازالہ اوہام باطلہ کی طرف توجہ نہ کی جائے تب بھی میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ تمام لوگ غلطی پر ہیں اور ایسی کارروائیاں اس حقیقی علاج کی ہرگز قائم مقام نہیں ہوسکتیں جس سے وہ تمام وساوس دور ہو جائیں جو صد ہا دلوں میں متمکن ہیں بلکہ یہ تو تحکم سے منہ بند کرنا ہوگا۔ اور یہ بھی نہیں