البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 630

البلاغ — Page 376

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۷۶ البلاغ فریاد درد لکھنے کے لئے منتخب ہونا چاہیے کیونکہ جس قدر عیسائیوں نے جان توڑ کر اس رسالہ کی اشاعت کی ہے اور قانونی مواخذہ کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر ہر ایک معزز مسلمان کو ایک کتاب بلا طلب بھیجی اور تمام مسلمانان برٹش انڈیا کا دل دکھایا۔ اس تمام کارروائی سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری ہتھیار انہوں نے چلایا ہے اور غایت درجہ کے سخت الفاظ جو اس رسالہ میں استعمال کئے گئے ہیں ان کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا مسلمان اشتعال میں آ کر عدالتوں کی طرف دوڑیں یا گورنمنٹ عالیہ میں میموریل بھیجیں اور اس طریق مستقیم پر قدم نہ ماریں جو ایسے مفتریا نہ الزامات کا حقیقی اور واقعی علاج ہے۔ چنانچہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ مکران کا چل گیا ہے اور مسلمانوں نے اگر اس کمینہ اور نجس کتاب کے مقابلہ میں کوئی تدبیر سوچی ہے تو بس یہی کہ اس کتاب کی شکایت کے بارے میں گورنمنٹ میں ایک میموریل بھیج دیا ہے۔ چنانچہ انجمن حمایت اسلام لاہور کو یہی سوجھی کہ اس کتاب کے بارے میں گورنمنٹ کے آگے نالہ و فریاد کرے مگر افسوس کہ ان لوگوں کو اس بات کا ذرہ خیال نہیں ہوا کہ حضرات پادری صاحبوں کا یہی تو مدعا تھا تا اس معکوس طریق کے اختیار کرنے سے مسلمان لوگ اپنے رب کریم کی اس تعلیم پر عمل کرنے سے محروم رہیں کہ جادلهم بالحكمة والموعظة الحسنة اس افسوس اور اس دردناک خیال سے جگر پاش پاش ہوتا ہے کہ ایک طرف تو ایسی کتاب شائع ہو جس کے شائع ہونے سے جاہلوں کے دلوں میں زہر یلے اثر پھیلیں اور ایک دنیا ہلاک ہو اور دوسری طرف اس زہریلی کارروائی کے مقابل پر یہ تدبیر ہو کہ جو لوگ مسلمانوں کا ہزار ہا روپیہ اس غرض سے لیتے ہیں کہ وہ دشمنان دین کا جواب لکھیں ان کی فقط یہ کارروائی ہو کہ دو چار صفحہ کا میموریل گورنمنٹ میں بھیج کر لوگوں پر ظاہر کریں کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر دیا۔ حالانکہ صدہا مرتبہ آپ ہی اس امر کو ظاہر کر چکے ہیں کہ ان کی انجمن کے مقاصد میں سے پہلا مقصد یہی ہے کہ وہ ان اعتراضوں کا جواب دیں گے جو مخالفوں کی طرف سے وقتا فوقتا اسلام پر کئے جائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں نے کبھی ان کا رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور دیکھا ہوگا وہ اس رسالہ کے ابتدا میں ہی اس وعدہ ☆ یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ النحل کی آیت ۱۲۶ کا حوالہ دے رہے ہیں جو یہ ہے ۔ اُدْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ - (ناشر)