البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 375 of 630

البلاغ — Page 375

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۷۵ البلاغ - فریا دورد اس کے علاوہ اور بھی۔ جس کی کسی قدر فہرست حاشیہ میں دی گئی ہے۔ دیکھو حاشیہ متعلق صفحہ شر اشتم) نویس شرط تقریر یا تالیف کیلئے فراغت نفس اور صرف دینی خدمت کے لئے زندگی کا (۷) شروط لئے وقف کرنا ہے۔ کیونکہ یہ بھی تجربہ میں آچکا ہے کہ ایک دل سے دو مختلف کام ہونے مشکل ہیں۔ مثلا ایک شخص جو سرکاری ملازم ہے اور اپنے فرض منصبی کی ذمہ داریاں اس کے گلے پڑی ہوئی ہیں اگر وہ دینی تالیفات کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو علاوہ اس بد دیانتی کے جو اس نے اپنے بیچے ہوئے وقت کو دوسری جگہ لگا دیا ہے ہرگز وہ اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جس نے اپنے تمام اوقات کو صرف اسی کام کے لئے مستغرق کر لیا ہے حتی کہ اس کی تمام زندگی اسی کام کے لئے ہوگئی ہے۔ دسویں شرط تقریر یا تالیف کے لئے اعجازی طاقت ہے کیونکہ انسان حقیقی روشنی کے حاصل کرنے کیلئے اور کامل تسلی پانے کے لئے اعجازی طاقت یعنی آسمانی نشانوں کے دیکھنے کا محتاج ہے اور وہ آخری فیصلہ ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور سے ہوتا ہے۔ لہذا جو شخص اسلام کے دشمنوں کے مقابل پر کھڑا ہو اور ایسے لوگوں کو لاجواب کرنا چاہے جو ظہور خوارق کو خلاف قدرت سمجھتے ہیں یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خوارق اور معجزات سے منکر ہیں تو ایسے شخص کے زیر کرنے کے لئے امت محمدیہ کے وہ بندے مخصوص ہیں جن کی دعاؤں کے ذریعہ سے کوئی نشان ظاہر ہوسکتا ہے۔ یادر ہے کہ مذہب سے آسمانی نشانوں کو بہت تعلق ہے اور بچے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ اس میں نشان دکھلانے والے پیدا ہوتے رہیں۔ اور اہل حق کو خدا تعالیٰ صرف منقولات پر نہیں چھوڑتا اور جو شخص محض خدا تعالیٰ کے لئے مخالفوں سے بحث کرتا ہے اس کو ضرور آسمانی نشان عطا کئے جاتے ہیں۔ ہاں یقینا سمجھو کہ عطا کئے جاتے ہیں تا آسمان کا خدا اپنے ہاتھ سے اس کو غالب کرے اور جو شخص خدا تعالیٰ سے نشان نہ پاوے تو میں ڈرتا ہوں کہ وہ پوشیدہ بے ایمان نہ ہو کیونکہ قرآنی وعدہ کے موافق آسمانی مدد اس کے لئے نازل نہ ہوئی۔ یہ دس شرطیں ہیں جو ان لوگوں کے لئے ضروری ہیں جو کسی مخالف عیسائی کا رڈ لکھنا چاہیں یا زبانی مباحثہ کریں۔ اور ان ہی کی پابندی سے کوئی شخص رسالہ امہات المومنین کا جواب یہ حاشیہ کتاب کے صفحہ ۴۵۸ پر ہے۔ (ناشر)