البلاغ — Page 371
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۷۱ البلاغ ۔ فریا د درد اتفاق ہو تو لطافت بیان میں اپنے حریف سے بہر حال غالب رہے اور زبان دانی کے رُعب (۳) سے مخالف کو یہ یقین دلا سکتا ہو کہ وہ در حقیقت خدا تعالیٰ کی کلام کے سمجھنے میں اس سے زیادہ معرفت رکھتا ہے۔ بلکہ اس کی یہ لیاقت اس کے ملک میں ایک واقعہ مشہورہ ہونا چاہیے کہ وہ علم لسان عرب میں یکتائے روزگار ہے۔ اور اسلامی مباحثات کی راہ میں یہ بات پڑی ہے کہ کبھی لفظی بحثیں شروع ہو جاتی ہیں اور تجر بہ صحیحہ اس بات کا گواہ ہے کہ عربی عبارتوں کے معانی کا یقینی اور قطعی فیصلہ بہت کچھ علم مفردات و مرکبات لسان پر موقوف ہے۔ اور جو شخص زبان عربی سے جاہل اور مناہج تحقیق فن لغت سے نا آشنا ہو وہ اس لائق ہی نہیں ہوتا کہ بڑے بڑے نازک اور عظیم الشان مباحثات میں قدم رکھ سکے اور نہ اس کا کلام قابل اعتبار ہوتا ہے۔ اور نیز ہر ایک کلام جو پبلک کے سامنے آئے گا اس کی قدر و منزلت متکلم کی قدرومنزلت کے لحاظ سے ہوگی ۔ پھر اگر متکلم ایسا شخص نہیں ہے جس کی زبان دانی میں مخالف کچھ چون و چرا نہیں کر سکتا تو ایسے شخص کی کوئی تحقیق جو زبان عرب کے متعلق ہوگی قابل اعتبار نہیں ہوگی ۔ لیکن اگر ایک شخص جو مباحثہ کے میدان میں کھڑا ہے مخالفوں کی نظر میں ایک نامی زبان دان ہے اور اس کے مقابل پر ایک جاہل عیسائی ہے تو منصفوں کے لئے یہی امر اطمینان کے لائق ہوگا کہ وہ مسلمان کسی فقرہ یا کسی لفظ کے معنے بیان کرنے میں سچا ہے۔ کیونکہ اس کو علم زبان اس عیسائی سے بہت زیادہ ہے۔ اور اس صورت میں خواہ مخواہ اس کے بیان کا دلوں پر اثر ہوگا اور ظالم مخالفوں کا منہ بند ر ہے گا۔ یادر ہے کہ ایسے مناظرات میں خواہ تحریری ہوں یا تقریری اگر وہ منقولی حوالجات پر موقوف ہوں تو فقرات یا مفردات الفاظ پر بحث کرنے کا بہت اتفاق پڑ جاتا ہے بلکہ یہ نشیں نہایت ضروری ہیں کیونکہ ان سے حقیقت کھلتی ہے اور پردہ اٹھتا ہے اور علمی گواہیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ماسوا اس کے یہ بات بھی اس شرط کو ضروری ٹھہراتی ہے کہ ہر ایک حریف مقابل اپنے حریف کی حیثیت علمی جانچا کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اگر اور راہ سے نہیں تو اسی راہ سے