البلاغ — Page 369
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۶۹ البلاغ جس کا دوسرا نام ہے فریاد درد بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ البلاغ - فریاد درد نحمده و نُصلّى على رسوله الكريم اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ) أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادَكَ فِيْمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ( رسالۂ اُمہات المؤمنين ) اس کتاب کا مفصل حال لکھنا کچھ ضروری نہیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس نے بدگوئی بدزبانی اور نہایت سخت تو ہین اور گندے لفظ اور او باشا نہ گالیاں ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء خیر الاصفیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت استعمال کر کے پنجاب اور ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمانوں کا دل دُکھایا۔ اور مسلمانوں کی قوم کو اپنے اس جھوٹ اور افترا سے جو نہایت بد گوئی اور قابل شرم بے حیائی کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے وہ دردناک زخم پہنچایا ہے کہ نہ ہم اور نہ ہماری اولا د کبھی اس کو بھول سکتی ہے۔ اسی وجہ سے پنجاب اور ہندوستان میں اس کتاب کی نسبت بہت شور اُٹھا ہے۔ اور مجھے بھی کئی شریف مسلمانوں اور علماء معززین کے خط پہنچے ہیں ۔ چنانچہ علماء میں سے مولوی محمد ابراہیم صاحب نے آرہ سے اسی بارے میں