آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 65

روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام کھلے کھلے طور پر بزبان شرع مستعمل نہیں ہیں ۔ مگر در حقیقت عارفوں نے ﴿۲۵﴾ قرآن کریم سے ہی اس کو استنباط کیا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ أَبَاءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا لے یعنی اللہ تعالی کو ایسا یاد کرو کہ جیسے تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو ۔ اور ظاہر ہے کہ اگر مجازی طور پر ان الفاظ کا بولنا منہیات شرع سے ہوتا تو خدا تعالیٰ ایسی طرز سے اپنی کلام کو منزہ رکھتا جس سے اس اطلاق کا جواز مستنبط ہو سکتا ہے ۔ اور اس درجہ لقا میں بعض اوقات انسان سے ایسے امور صادر ہوتے ہیں کہ جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور الہی طاقت کا رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں جیسے ہمارے سید و مولیٰ سید الرسل حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر میں ایک سنگریزوں کی مٹھی کفار پر چلائی اور وہ مٹھی کسی دعا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خود اپنی روحانی طاقت سے چلائی مگر اس مٹھی نے 3 خدائی طاقت دکھلائی اور مخالف کی فوج پر ایسا خارق عادت اُس کا اثر پڑا کہ کوئی ہے ان میں سے ایسا نہ رہا کہ جس کی آنکھ پر اس کا اثر نہ پہنچا ہو اور وہ سب اندھوں کی طرح ہو گئے اور ایسی سراسیمگی اور پریشانی ان میں پیدا ہوگئی کہ مدہوشوں کی طرح بھاگنا شروع کیا ۔ اسی معجزہ کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَلى : یعنی جب تو نے اس مٹھی کو پھینکا وہ تو نے نہیں پھینکا بلکہ خدا تعالیٰ نے پھینکا۔ یعنی در پردہ الہی طاقت کام کر گئی ۔ انسانی طاقت کا یہ کام نہ تھا۔ اور ایسا ہی دوسرا معجزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو البقرة: ٢٠١ الانفال: ۱۸