آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 64
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۴ آئینہ کمالات اسلام سعادتِ تامہ اسلام کے مدارج ۲۴ کا اجر اس کی نظر میں وہمی اور خیالی اور ظنی نہ رہے بلکہ ایسا یقینی اور قطعی اور مشہود اور مرئی اور محسوس ہو کہ گویا وہ اس کو مل چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسا یقین ہو جائے کہ گویا وہ اس کو دیکھ رہا ہے اور ہر یک آئندہ کا خوف اس کی نظر سے اٹھ جاوے اور ہر یک گزشتہ اور موجودہ غم کا نام ونشان نہ رہے اور ہر یک روحانی تسمم موجود الوقت نظر آوے تو یہی حالت جو ہر یک قبض اور کدورت سے پاک اور ہر یک دغدغہ اور شک سے محفوظ اور ہر یک درد انتظار سے منزہ سے لقا کے نام سے موسوم ہے اور اس مرتبہ لقا محسن کا لفظ جو آیت میں موجود ہے نہایت صراحت سے دلالت کر رہا ہے کیونکہ احسان حسب تشریح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت کا ملہ کا نام ہے کہ جب انسان اپنی پرستش کی حالت میں خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کرے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے ۔ اور یہ لقا کا مرتبہ تب سالک کیلئے کامل طور پر متحقق ہوتا ہے کہ جب ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو بتمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متواری اور پوشیدہ کر دیوے جس طرح آگ لوہے کے رنگ کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ نظر ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ یہ وہی مقام ہے جس پر پہنچ کر بعض سالکین نے لغزشیں کھائی ہیں اور شہودی پیوند کو وجودی پیوند کے رنگ میں سمجھ لیا ہے ۔ اس مقام میں جو اولیاء اللہ پہنچے ہیں یا جن کو اس میں سے کوئی گھونٹ میسر آ گیا ہے ۔ بعض اہل تصوف نے ان کا نام اطفال اللہ رکھ دیا ہے اس مناسبت سے کہ وہ لوگ صفات الہی کے کنار عاطفت میں بکلی جا پڑے ہیں اور جیسے ایک شخص کا لڑکا اپنے حلیہ اور خط و خال میں کچھ اپنے باپ سے مناسبت رکھتا ہے ویسا ہی ان کو بھی ظلی طور پر بوجہ تخلق با خلاق اللہ خدا تعالیٰ کی صفات جمیلہ سے کچھ مناسبت پیدا ہوگئی ہے۔ ایسے نام اطفال