آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 63
روحانی خزائن جلده ۶۳ آئینہ کمالات اسلام اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ سعادت تامہ کے تینوں ضروری درجوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضا اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے ۔ وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آ گیا تو بلا شبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہو گئی اور اسی موت کو اہل تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ پھر بعد اس کے وَهُوَ مُحْسِنٌ کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنا اکمل واتم وسلب جذبات نفسانی ۔ الہی جذ بہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیات ثانی ہے جس کا نام بقا رکھنا چاہئے ۔ پھر بعد اس کے یہ فقرات فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جو اثبات و ایجاب اجر و نفی و سلب خوف وحزن پر دلالت کرتے ہیں یہ حالت لقا کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس وقت انسان کے عرفان اور یقین اور تو کل اور محبت میں ایسا مرتبہ عالیہ پیدا ہو جائے کہ اس کے خلوص اور ایمان اور وفا البقرة :١١٣