آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 62
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۲ آئینہ کمالات اسلام ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچاوے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خدا داد قوت سے مدد دے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگاوے۔ مگر یہ لبھی وقف محض اس صورت میں اسم بامسمی ہوگی کہ جب تمام اعضا اللہی طاعت کے رنگ سے ایسے رنگ پذیر ہو جائیں کہ گویا وہ ایک الہی آلہ ہیں جن کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً افعال الہیہ ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ایک مصفا آئینہ ہیں جس میں تمام مرضیات الهیه بصفاء اء تا ام ۔ عکسی طور پر ظہور پکڑتی رہتی ہیں اور جب اس درجہ کاملہ پر ہی طاعات و خدمات پہنچ جائیں تو اس صبغۃ اللہ کی برکت سے اس وصف کے انسان کے قومی اور جوارح کی نسبت وحدت شہودی کے طور پر یہ کہنا صحیح ہوتا ہے کہ مثلاً یہ آنکھیں خدا تعالیٰ کی آنکھیں اور یہ زبان خدا تعالیٰ کی زبان اور یہ ہاتھ خدا تعالیٰ کے ہاتھ اور یہ کان خدا تعالیٰ کے کان اور یہ پاؤں خدا تعالیٰ کے پاؤں ہیں ۔ کیونکہ وہ تمام اعضاء اور قوتیں الہی راہوں میں خدا تعالیٰ کے ارادوں سے پُر ہو کر اور اس کی خواہشوں کی تصویر بن کر اس لائق ہو جاتی ہیں کہ ان کو اسی کا روپ کہا جاوے وجہ یہ کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء پورے طور پر اس کی مرضی اور ارادہ کے تابع ہوتے ہیں ایسا ہی کامل انسان اس درجہ پر پہنچ کر خدا تعالیٰ کی مرضیات وارادت سے موافقت تامہ پیدا کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور وحدانیت اور مالکیت اور معبودیت اور اس کی ہر یک مرضی اور خواہش معلوم ہوتی ہے کہ جیسی خود خدا تعالیٰ کو ۔ سو یہ عظیم الشان طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے سے ملی ہوئی اور خلوص او اور خلوص اور حنفیت تامہ سے بھری ہوئی ہے یہی اسلام اور اسلام کی اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کا لب لباب ہے جو نفس اور خلق اور کی بات ایسی ہی اس کو پیاری مع اللي ۔ ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے ۔