آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 59

روحانی خزائن جلده ۵۹ آئینہ کمالات اسلام صفات پر ایمان لا کر اس سے موافقت تامہ ہو گئی اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ ۵۹) سے ہمرنگ ہو گیا اور تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر گئی اور جمیع اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذ ذ اور اختطاظ کی کشش سے صادر ہونے لگے تو یہی وہ کیفیت ہے جس کو فلاح اور نجات اور رستگاری سے موسوم کرنا چاہئے اور عالم آخرت میں جو کچھ نجات کے متعلق مشہود و محسوس ہو گا وہ در حقیقت اسی کیفیت راسخہ کے اظلال و آثار ہیں جو اس جہان میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہو جاتی ہے اور جہنمی عذاب کی جڑھ بھی اسی جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔ اب آیات ممدوحہ بالا پر ایک نظر غور ڈالنے سے ہر یک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قومی کے محض خدا تعالیٰ کیلئے اور اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معطی حقیقی کو واپس دی جائیں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کا ملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور اس کا رحم اور اس کا حلم اور اس کا علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور سرور اور جو کچھ اس کا سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے یہاں تک کہ اس کی نیات اور اس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے جذبات سب خدا تعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جیسے ایک شخص کے