آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 58
روحانی خزائن جلده ۵۸ آئینہ کمالات اسلام ۵۸ طالب ہوں اور یا یہ کہ کسی امر یا خصومت کو چھوڑ دیں۔ اور اصطلاحی معنے اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کریمہ میں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ لے یعنی مسلمان وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دیوے یعنی اپنے وجود کو اللہ تعالیٰ کیلئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کیلئے اور اس کی خوشنودی کے حاصل کرنے کیلئے وقف کر دیوے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اُس کی راہ میں لگا دیوے مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جاوے ۔ ،، اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کر نے کیلئے بنائی گئی ہے ۔ اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصاً للہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا وے مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر بقیہ ترجمہ آیت کا یہ ہے کہ جس کی اعتقادی و عملی صفائی ایسی محبت ذاتی پر مبنی ہو اور ایسے طبعی جوش سے اعمال حسنہ اُس سے صادر ہوں وہی ہے جو عند اللہ مستحق اجر ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غم رکھتے ہیں یعنی ایسے لوگوں کیلئے نجات نقد موجود ہے کیونکہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات اور البقرة: ١١٣