آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 57

روحانی خزائن جلده ۵۷ آئینہ کمالات اسلام تبخاک انگیزئی شان بر ضیائے خود نمی ترسم نہان کے ماند آن نورے کہ حق بخشید فطرت را (۵۷) کجا غوغائے شان بر خاطر من وحشتی آرد که صادق بزدلی نبود وگر بیند قیامت را اب قبل اس کے جو ہم دوسری بحثوں کی طرف توجہ کریں اس بحث کا لکھنا نہایت ضروری ہے جو دین اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اس حقیقت تک پہنچنے کے وسائل کیا ہیں اور اس حقیقت پر پابند ہونے کے ثمرات کیا ہیں کیونکہ بہت سے اسرار دقیقہ کا سمجھنا اسی بات پر موقوف ہے کہ پہلے حقیقت اسلام اور پھر اس حقیقت کے وسائل اور پھر اس کے ثمرات بخوبی ذہن نشین ہو جائیں اور ہمارے اندرونی مخالفوں کیلئے یہ بات نہایت فائدہ مند ہوگی کہ وہ حقیقت اسلام اور اس کی ابحاث متعلقہ کو توجہ سے پڑھیں کیونکہ جن شکوک و شبہات میں وہ مبتلا ہیں اکثر وہ ایسے ہیں کہ فقط اسی وجہ سے دلوں میں پیدا ہوئے ہیں کہ اسلام کی اتم اور اکمل حقیقت اور اس کے وسائل اور ثمرات پر غور نہیں کی گئی ۔ اور اس بات میں کچھ شبہ نہیں کہ ان تمام حقیقتوں پر غور کرنے کے بعد اگر اس عاجز کے اندرونی مخالف اپنے اعتراضات کے مقابل پر میرے جوابات کو پڑھیں گے تو بہت سے اوہام اور وساوس سے مخلصی پا جائیں گے بشرطیکہ وہ غور سے پڑھیں ۔ اور پھر ان مقامات کو نظر کے سامنے رکھ کر میرے اُن جوابات کو سوچیں جو میں نے ان کے شبہات کے قلع و قمع کیلئے لکھے ہیں ۔ ایسا ہی مخالفین مذہب کو بھی ان حقائق کے بیان کرنے سے بہت فائدہ ہوگا اور وہ اِس مقام سے سمجھ سکتے ہیں کہ مذہب کیا چیز ہے اور اس کی سچائی کے نشان کیا ہیں ۔ اب واضح ہو کہ لغت عرب میں اسلام اس کو کہتے ہیں کہ بطور پیشگی ایک چیز کا مول دیا جائے اور یا یہ کہ کسی کو اپنا کام سونپیں اور یا یہ کہ صلح کے