آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 53

روحانی خزائن جلد ۵ ۵۳ آئینہ کمالات اسلام کے صاحبو ! یہاں وہ دجالیتیں پھیل رہی ہیں جو تمہارے فرضی دجال (۵۳) باپ کو بھی یاد نہیں ہونگی ۔ یہ کارروائیاں خلق اللہ کے اغوا کے لئے ہزار ہا پہلو سے جاری کی گئی ہیں جن کے لکھنے کیلئے بھی ایک دفتر چاہئے اور ان میں مخالفین کو کامیابی بھی ایسی اعلیٰ درجہ کی ہوئی ہے کہ دلوں کو ہلا دیا ہے اور ان کے مکروں نے عام طور پر دلوں پر سخت اثر ڈالا ہے اور ان کی طبیعی اور فلسفہ نے ایسی شوخی اور بے باکی کا تم پھیلا دیا ہے کہ گویا ہر ایک شخص اس کے فلسفہ دانوں میں سے انا الرب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے ۔ پس جا گو اور اٹھو اور دیکھو کہ یہ کیسا وقت آگیا اور سوچو کہ یہ موجودہ خیالات توحید محض کے کس قدر مخالف ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا خیال بھی ایک بڑی نادانی کا طریق سمجھا جاتا ہے اور تقدیر کے لفظ کو منہ پر لانے والا بڑا بے وقوف کہلاتا ہے ، اور فلسفی دماغ کے آدمی دہریت کو پھیلاتے جاتے ہیں اور اس فکر میں لگے ہوئے ہیں کہ تمام گل الوہیت کی کسی طرح ہمارے ہاتھ میں ہی آ جاوے ہم ہی جب چاہیں وباؤں کو دور کر دیں موتوں کو ٹال دیں اور جب چاہیں بارش برسا دیں کھیتی اُگا لیں اور کوئی چیز ہمارے قبضہ قدرت سے باہر نہ ہو ۔ سوچو کہ اس زمانہ میں ان بے راہیوں کا کچھ انتہا بھی ہے ان آفتوں نے اسلام کے دونوں بازؤں پر تبر رکھ دیا ہے اے سونے والو بیدار ہو جاؤ اے غافلو اٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آ گیا ۔ یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھٹھے اور نبی اور تکفیر بازی کا ۔ دعا کرو کہ خدا وند کریم تمہیں آنکھیں بخشے تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو اور نیز اُس