آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 45
روحانی خزائن جلده ۴۵ آئینہ کمالات اسلام خاصیت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص نہ اصلا و نہ ظالا اس کا شریک نہیں اور (۴۵) خدا تعالیٰ کی طرح کسی اپنی صفت میں واحد لاشریک ہے ۔ چنانچہ قرآن کریم میں سورۃ اخلاص اسی بھید کو بیان کر رہی ہے کہ احدیت ذات وصفات خدا تعالی کا خاصہ ہے دیکھو اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اور جب کہ واقعی یہی بات ہے کہ مخلوق کی شناخت کی بڑی علامت یہی ہے کہ بعض بعض سے مشارکت و مشابہت رکھتے ہیں اور کوئی فرد کوئی ایسی ذاتی خاصیت اور خصوصیت نہیں رکھتا جو دوسرے کسی فرد کو اس سے حصہ نہ ہو خواہ اصلا یا ظلا تو پھر اگر اس صورت میں ہم کوئی ایسا فرد افراد بشریہ سے تسلیم کر لیں جو اپنی بعض صفات یا افعال میں دوسروں سے بکلی ممتاز اور لوازم بشریت سے بڑھ کر ہے اور خدا تعالیٰ کی طرح اپنے اس فعل یا صفت میں یگانگت رکھتا ہے تو گویا ہم نے خدا تعالیٰ کی صفت وحدانیت میں ایک شریک قرار دیا۔ یہ ایک دقیق راز ہے اس کو خوب سوچو۔ خدا تعالیٰ نے جو اپنی کلام میں کئی دفعہ حضرت مسیح کی وفات کا ذکر کیا ہے یہاں تک کہ ان کی والدہ مریم صدیقہ کے ساتھ جو با تفاق فوت شدہ ہے ان کے ذکر کو ملا کر بیان کیا کہ كَانَا يَأْكُلْنِ الطَّعَامَ " کہ وہ دونوں جب زندہ تھے طعام کھایا کرتے تھے اس تاکید کی یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے علم قدیم سے خوب جانتا تھا کہ آخری زمانہ میں لوگ باعث خیال حیات مسیح سخت فتنہ میں پڑیں گے اور وہ فتنہ اسلام کیلئے سخت مضر ہو گا اس لئے اس نے پہلے ہی سے فیصلہ کر دیا اور بخوبی ظاہر کر دیا کہ مسیح فوت ہو گیا۔ بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ آیت إِنِّي مُتَوَفِّيكَ میں صرف حضرت مسیح کی وفات کا وعدہ ہے جس سے صرف اس قدر نکلتا ہے کہ کسی وقت خدا تعالیٰ مسیح کو وفات دے دے گا یہ تو نہیں نکلتا کہ وفات دے بھی دی الاخلاص : ٢ المائدة : ۳۶ ال عمران ۵۶