آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 672
۔یہ مسیحِ ناصری کو قیامت تک زندہ سمجھتے ہیں۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فضیلت نہیں دیتے۔چونکہ نافہء عرفان کی خوشبو سے ازلی محروم تھے اس لئے شاہنشاہِ عالم کی شان میں یہ ذلّت پسند کی۔قرآن کے تمام موتیوں کو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک دیا اُن کے ناقص علم کی وجہ سے ملّت اسلام کا کس قدر نقصان ہوا۔انہوں نے اپنے عقیدہ سے تمام عیسائیوں کی مدد کی اسی وجہ سے ُمردہ پرستوں میں بھی دلیری آگئی۔اس آتشیں زمانے میں مَیں آرام کی نیند کیونکر سو سکتا ہوں جبکہ زمانہ فریاد کر رہا ہے کہ جلدی مدد کو پہنچو۔اندھیری رات، چور کا خوف اور قوم غافل اس غم سے کہاں جاؤں؟ یا رب خود دست قدرت دکھا صفحہ ۵۷۔جو میری روشنی پر خاک ڈال رہے ہیں اس کا مجھے خوف نہیں بھلا وہ نور کب چھپ سکتا ہے جو خدا نے میری فطرت کو بخشا ہے۔ان کے شور وشغب سے میرے دل میں گھبراہٹ نہیں پیدا ہوتی، صادق کبھی بزدل نہیں ہوتا خواہ قیامت کو دیکھے صفحہ ۱۱۲۔مصطفی کا درجہ کیونکر کم ہو گیامسیح ناصری۔سے اے نادان لڑکے۔وہ کہ جس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے اُس کی بابت کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ روح القدس سے الگ ہے۔وہ جس کا ہر قول وفعل ہمارا دین ہے تو ایک دم کے لئے بھی جبریل سے اس کی جدائی کیونکر جائز ہوسکتی ہے۔نبیوں کے سردار پر یہ افترا، تم کیوں خدا کے غصّے سے نہیں ڈرتے صفحہ ۱۶۴۔موسٰیؑ اور عیسٰیؑ آپ کی جماعت کے ہی افراد ہیں۔سب اس راہ میں آپ کے طفیلی ہیں صفحہ ۱۷۳۔فرشتے اس امانت کا بوجھ نہ اٹھا سکے آخر قرعہ فال مجھ دیوانہ کے نام ہی نکلا صفحہ ۲۹۹۔دلائل پر بھروسہ کرنے والوں کا پاؤں لکڑی کا ہوتا ہے