آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 42

روحانی خزائن جلد ۵ ۴۲ آئینہ کمالات اسلام (۲۲) مسیح اپنے خواص میں عام انسانوں کے خواص بلکہ تمام انبیاء کے خواص سے متقی اور نرالا ہے۔ کیونکہ جبکہ ایک افضل البشر جو سیح سے چھ سو برس پیچھے آیا تھوڑی سی عمر پا کر فوت ہو گیا اور تیرہ سو برس اس نبی کریم کے فوت ہونے پر گذر بھی گئے مگر مسیح اب تک فوت ہونے میں نہیں آیا تو کیا اس سے یہی ثابت ہوا یا کچھ اور کہ مسیح کی حالت لوازم بشریت سے بڑھی ہوئی ہے۔ پس حال کے علماء اگر چہ بظاہر صورت شرک سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر مشرکوں کو مدد دینے میں کوئی دقیقہ اُنہوں نے اٹھا نہیں رکھا۔ غضب کی بات ہے کہ اللہ جل شانہ تو اپنی پاک کلام میں حضرت مسیح کی وفات ظاہر کرے اور یہ لوگ اب تک اس کو زندہ سمجھ کر ہزار ہا اور بیشمار فتنے اسلام کیلئے بر پا کر دیں اور مسیح کو آسمان کا حتی وقیوم اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کا مردہ ٹھہراو میں حالانکہ مسیح کی گواہی قرآن کریم میں اس طرح پر لکھی ہے کہ مُبَشِّرًا بِرَسُولِ يَأْتِي مِنْ بَعْدِى اسْمُةَ احمد بے یعنی میں ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد یعنی میرے مرنے کے بعد آئیگا اور نام اس کا احمد ہوگا ۔ پس اگر مسیح اب تک اس عالم جسمانی سے گذر نہیں گیا تو اس سے لازم آتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اب تک اس عالم میں تشریف فرما نہیں ہوئے کیونکہ نص اپنے کھلے کھلے الفاظ سے بتلا رہی ہے کہ جب مسیح اس عالم جسمانی سے رخصت ہو جائے گا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم جسمانی میں تشریف لائیں گے ۔ وجہ یہ کہ آیت میں آنے کے مقابل پر جانا بیان کیا گیا ہے اور ضرور ہے کہ آنا اور جانا دونوں ایک ہی رنگ کے ہوں ۔ یعنی ایک اُس عالم کی طرف چلا گیا اور ایک اُس عالم کی طرف سے آیا ۔ پھر دوسری گواہی حضرت مسیح کی ان کی وفات کے بارے میں آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں صریح صریح درج ہے جس کی آنکھیں الصف :