آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 671
۔اگر خدا کا طلب گار ہے تو دنیوی نعمتوں سے دل نہ لگا کہ میرا محبوب ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو عیش کے تارک ہوں۔پانی کا مصفا قطرہ چاہیے تا کہ اُس سے موتی پیدا ہو۔ناپاک دل خدا کے پاک چہرہ کو کہاں دیکھ سکتا ہے۔مجھے ذرہ بھر دنیا کی عزت درکار نہیں۔ہمارے لئے کرسی نہ بچھا کہ ہم تو خدمت پر مامور ہیں صفحہ ۵۶۔سب لوگ اور سارا جہاں اپنے لئے عزت چاہتا ہے برخلاف اس کے میں یار کی راہ میں ذلت مانگتا ہوں۔سب لوگ اس زمانہ میں امن وعافیت کے خواستگار ہیں میرے سر کو کیا ہوا کہ وہ مصیبت کا خواہشمند ہے۔مجھے تو جدھر دیکھتا ہوں رُخِ جاناں ہی نظر آتا ہے سورج میں بھی وہی چمکتا ہے اور چاند میں بھی وہی ملاحت دکھاتا ہے۔میں اُس روز سے غربت اور عجز کا حریص ہوں جب سے میں نے جانا کہ اُس کے حضور میں زخمی مسکین دل کی عزت ہے۔میں نے خودی اور خودرائی کی اس شاخ کو جڑ سے کاٹ ڈالا جو اپنی ناپاکی سے نفرین اور لعنت کا پھل پیدا کرتی ہے۔اگر میرے جان ودل کے چمن سے پردہ اٹھایا جائے تو ُتو اس میں اس پاکیزہ طلعت معشوق کا چہرہ دیکھ لے گا۔اس کے نورِ عشق کی تجلّی سے ہمارے بام وقصر روشن ہیں۔لیکن اسے وہی دیکھتا ہے جو بصیرت رکھتا ہو۔محبوب کی نگاہِ رحمت نے مجھ پر بڑی عنایتیں کی ہیں ورنہ مجھ جیسا انسان کس طرح اس رشد وسعادت کو پاتا۔ظاہری علوم کے واقف اپنے علم پر نازاں ہیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے اصلیت اور حقیقت اور مغز کو پرے پھینک دیا۔انہوں نے تکبر کے پردوں میں اپنی عقل ودانش کو چھپا دیا اور اس شراب کے ایسے خواہشمند ہیں جیسے پاک لوگ قرب الٰہی کے۔خدا نے خود شیطان کا قصہ اس لئے بیان کیا ہے تا کہ لوگ جانیں کہ تکبر عبادت گذار کو بھی شیطان بنا دیتا ہے۔ان لوگوں نے اپنی عمر بے فائدہ لفاظیوں میں بسر کر دی مگر حقیقت کے لئے ان کو ایک لحظہ کی فرصت نہیں۔ظاہری شرع کے بارے میں بھی اُن کی لاف وگزاف باطل ہے کیونکہ حقائق سے غافل انسان شریعت کو کب سمجھ سکتا ہے