آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 655
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۵۳ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی آئینہ کمالات اسلام تا دل مرد خدا نامد بدرد هیچ قومی را خدا رسوا نه کرد ( كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى اَنْ رَّاهُ اسْتَغْنَى) انسان با وجود سخت ناچیز اور مشت خاک ہونے کے پھر اپنی عاجزی کو کیسے جلد بھول جاتا ہے ایک ذرہ درد فرو ہونے اور آرام کی کروٹ بدلنے سے اپنی فروتنی کا لہجہ فی الفور بدل لیتا ہے پنجاب کے قریباً تمام آدمی شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور سے واقف ہوں گے اور میرے خیال میں ہے کہ جس ایک بے جا الزام میں اپنے بعض پنہانی قصوروں کی وجہ سے جن کو خدا تعالیٰ جانتا ہوگا وہ پھنس گئے تھے۔ وہ قصہ ہمارے ملک کے بچوں اور عورتوں کو بھی معلوم ہوگا۔ سو اس وقت ہمیں اس منسوخ شدہ قصہ سے تو کچھ مطلب نہیں صرف اس بات کا ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ اس قصہ سے تخمیناً چھ ماہ پہلے اس عاجز کو بذریعہ ایک خواب کے جتلایا گیا تھا کہ شیخ صاحب کی جائے نشست فرش کو آگ لگی ہوئی ہے اور اس آگ کو اس عاجز نے بار بار پانی ڈال کر بجھایا ہے سو اسی وقت میرے دل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بہ یقین کامل یہ تعبیر ڈالی گئی کہ شیخ صاحب پر اور ان کی عزت پر سخت مصیبت آئے گی اور میرا پانی ڈالنا یہ ہوگا کہ آخر میری ہی دعا سے نہ کسی اور وجہ سے وہ بلا دور کی جائے گی اور میں نے اس خواب کے بعد شیخ صاحب کو بذریعہ ایک مفصل خط کے اپنے خواب سے اطلاع دیدی اور تو بہ اور استغفار کی طرف توجہ دلائی مگر اس خط کا جواب انہوں نے کچھ نہ لکھا آخر قریباً چھ ماہ گذرنے پر ایسا ہی ہوا اور میں انبالہ چھاؤنی میں تھا کہ ایک شخص محمد بخش نام شیخ صاحب کے فرزند جان محمد کی طرف سے میرے پاس پہنچا اور بیان کیا کہ فلاں مقدمہ میں شیخ صاحب حوالات میں ہو گئے میں نے اس شخص سے اپنے خط کا حال دریافت کیا جس میں چھ ماہ پہلے اس بلا کی اطلاع دی گئی تھی تو اس وقت محمد بخش نے اس خط کے پہنچنے سے لاعلمی ظاہر کی لیکن آخر خود شیخ صاحب نے رہائی کے بعد کئی دفعہ اقرار کیا کہ وہ خط ایک صندوق