آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 650
۶۴۸ روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام سے بھرے گا اور میں اپنی نعمتیں تجھ پر پوری کروں گا اور خواتین وہ خودناکام رہیں گے اور نا کامی و نامرادی میں مریں گے لیکن خدا مبارکہ سے جن میں سے تو بعض کو اس کے بعد پائے گا تیری نسل تجھے بلکلی کامیاب کرے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا۔ بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا اور انکے دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی اور ہر ایک شاخ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں تیرے جدی بھائیوں کی کائی جائے گی اور وہ جلد لا ولد رہ کر ختم ہو گے جو حاسدوں اور معاند وں کا گروہ ہے خدا انہیں نہیں بھولے گا جائے گی۔ اگر وہ تو بہ نہ کریں گے تو خدا ان پر بلا پر بلا نازل کرے اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا انا اجر پائیں گا یہاں تک کہ وہ نابود ہوجائیں گے ان کے گھر بیواؤں سے بھر گے ۔ تو مجھے ایسا ہے جیسے انبیاء بنی اسرائیل (یعنی فلی طور پر ان جائیں گے اور ان کی دیواروں پر غضب نازل ہوگا۔ لیکن اگر وہ سے مشابہت رکھتا ہے ) تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید۔ تو مجھ سے اور میں تجھ سے ہوں اور وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے رجوع کریں گے تو خدا رحم کے ساتھ رجوع کرے گا۔ خدا تیری کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا برکتیں اردگرد پھیلائے گا اور ایک اجڑا ہوا گھر تجھ سے آباد کرے یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اے گا۔ اور ایک ڈراؤ نا گھر برکتوں سے بھر دے گا یا تیری منفرد اور حق کے مخالفو اگر تم میرے بندہ کی نسبت شک میں ہو۔ وار ت منقطع نہیں ہوگی اور آخری دنوں تک سرسبز رہے گی۔ اگر تمہیں اس فضل واحسان سے کچھ انکار ہے جو ہم نے اپنے بندہ خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے ۔ عزت پر کیا تو اس نشان رحمت کی مانند تم بھی اپنی نسبت کوئی سچا نشان کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پیش کر یا گرم ہے ہو اور اگرتم پیش نہ کر سکواور یادر کھوکہ ہرگز پیش پہنچادے گا۔ میں تجھے اٹھاؤں گا اور اپنی طرف بلالوں گا۔ پر نہ کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو کہ جو نافرمانوں اور جھوٹوں اور حد ذریت تیرا نام صفحہ زمین سے کبھی نہیں اٹھے گا اور ایسا ہوگا کہ سب وہ سے بڑھنے والوں کیلئے تیار ہے۔ فقط لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام حمید حاشیہ: امتی کا کمال یہی ہے کہ اپنے نبی متبوع سے بلکہ تمام رہنے کے در پے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں انبیاء متبوعین علیہم السلام سے مشابہت پیدا کرے۔ یہی کامل نوٹ: یہ ایک پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو دہم جولائی اتباع کی حقیقت اور علت غائی ہے جس کیلئے سورہ فاتحہ میں دعا ۱۸۸۸ء کے اشتہار میں شائع ہو چکی جس کا ماحصل یہ ہے کہ کرنے کیلئے ہم لوگ مامور ہیں۔ بلکہ یہی انسان کی فطرت میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں تقاضا پایا جاتا ہے اور اسی وجہ سے مسلمان لوگ اپنی اولاد کے نام نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص بطور تفاول عیسی ، داؤد، موسی، یعقوب ، محمد وغیرہ انبیاء علیہم السلام احمد بیگ نام ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو کے نام پر رکھتے ہیں اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ تا وہی اخلاق و تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا اور وہ جو نکاح کرے گاوہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔ سو اس از مقام ہوشیار پورطویله شیخ مہر علی صاحب رئیس جگہ اجڑے ہوئے گھر سے وہ اجڑا ہوا گھر مراد ہے۔ منہ مطبوعه ریاض هند قادیان برکات بطور ظلی ان میں بھی پیدا ہو جائیں۔ فتد بر ۔ منہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء