آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 641 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 641

روحانی خزائن جلد ۵ ۶۳۹ آئینہ کمالات اسلام رکھتے تھے ۔ عبداللہ صاحب نے فرمایا ہم نے محمد حسین بٹالوی کو ایک لمبا کر نہ پہنے دیکھا اور (۳) وہ کرتہ پارہ پارہ ہو گیا۔ یہ بھی عبداللہ صاحب نے فرمایا تھا کہ گرتے سے مراد علم ہے۔ آگے پارہ پارہ ہونے سے عقلمند خود سمجھ سکتا ہے کہ گویا علم کی پردہ دری مراد ہے جو آجکل ہو رہی ہے اور معلوم نہیں کہ کہاں تک ہوگی ۔ جو اللہ کے ولی کو ستاتا ہے گویا اللہ تعالیٰ سے لڑتا ہے۔ آخر پچھڑے گا۔ اب مجھے بخوبی ثابت ہوا کہ وہ لوگ بڑے بے انصاف ہیں جو بغیر ملاقات اور گفتگو کے مرزا صاحب کو دور سے بیٹھے دجال کذاب بنا رہے ہیں اور ان کے کلام کے غلط معنے گھڑ رہے ہیں یا کسی دوسرے کی تعلیم کو بغیر تفتیش مان لیتے ہیں اور مرزا صاحب سے اس کی بابت تحقیق نہیں کرتے ۔ مرزا صاحب جو آسمانی شہد اگل رہے ہیں اس کو وہ شیطانی زہر بتاتے ہیں اور بسبب سخت قلبی اور حجاب عداوت کے دور ہی سے گلاب کو پیشاب کہتے ہیں اور عوام اپنے خواص کے تابع ہو کر اس کے کھانے پینے سے باز رہتے ہیں اور اپنا سراسر نقصان کرتے ہیں ۔ سب سے بڑھ کر اس عاجز کے قدیمی دوست یا پرانے مقتدا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو مرزا صاحب سے ہٹانے اور نفرت دلانے میں مصروف ہیں جن کو پہلے پہل مرزا صاحب سے بندہ نے بدظن کیا تھا جس کے عوض میں اس دفعہ انہوں نے مجھے بہکایا اور صراط مستقیم سے جدا کر دیا ۔ چلو برابر ہو گئے مگر مولوی صاحب ہنوز در پے ہیں ۔ اب جو جلسہ پر مرزا صاحب نے مجھے طلب کیا تو مولوی صاحب کو بھی ایک مخبر نے خبر کر دی۔ انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت مجھے ایک خط لکھا جس میں ناصح مشفق نے مرزا صاحب کو اس قدر بُرا بھلا لکھا اور ایسے ناشائستہ الفاظ قلم سے نکالے کہ جن کا اعادہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ مولوی صاحب نے یہ بھی لحاظ نہ کیا کہ علاوہ بزرگ ہونے کے مرزا صاحب میرے کس قدر قریبی رشتہ دار ہیں پھر دعویٰ محبت ہے ۔ افسوس ۔ اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا امیر، غریب ، نواب ، انجینئر، تھانہ دار، تحصیلدار، زمیندار ، سوداگر ، حکیم، غرض ہر قسم کے لوگ تھے ۔ ہاں چند مولوی بھی تھے مگر مسکین مولوی ۔ مولوی کے ساتھ مسکین اور منکسر کا لفظ یہ مرزا صاحب کی کرامت ہے کہ مرزا صاحب سے مل کر مولوی بھی مسکین بن جاتے ہیں ورنہ آجکل مسکین مولوی اور بدعات سے