آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 36
روحانی خزائن جلده آئینہ کمالات اسلام ۳۶) خدمت اور اشاعت میں بسر ہو۔ ورنہ اگر انسان ساری دنیا کا بھی مالک ہو جائے اور اس قدر وسعت معاش حاصل ہو کہ تمام سامان عیش کے جو دنیا میں ایک شہنشاہ کیلئے ممکن ہیں وہ سب عیش اسے حاصل ہوں پھر بھی وہ عیش نہیں بلکہ ایک قسم عذاب کی ہے جس کی تلخیاں کبھی ساتھ ساتھ اور کبھی بعد میں کھلتی ہیں ۔ میں افسوس کرتا ہوں کہ ہمارے اکثر علماء کی توجہ اکثر ظاہری اور پست اور موٹے خیالوں کی طرف کھنچی ہوئی ہے اور وہ ان باریک حقیقوں کو سمجھتے نہیں کہ جو خدا وند کریم نے کتاب عزیز میں رکھی ہیں اور جو ہمارے سید و ہادی علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ ایسے عارف کو جو خدائے تعالیٰ سے معارف حکمیہ کا انعام پاوے اور ان دقائق کو کھولے جو ضرورت وقت نے ان کا کھولنا فرض کر دیا ہے ۔ زندیق اور ملحد اور مُحرف اور دین سے برگشتہ قرار دیتے ہیں ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ حقیقتوں سے اکثر ناواقف اور صرف ظاہر اور مجاز پر قناعت کرنے والے ہیں اور اس سرور حقیقی کی طرف ان کی طبیعتوں کو میل ہی نہیں اور نہ کچھ مناسبت ہے جو اسرار غامضہ پر اطلاع پانے سے حقانی عارفوں کو حاصل ہوتا ہے مشرقی بت پرستی کا اثر اگر چہ كَمَا هُوَ ہو تو ان پر پڑا نہیں مگر پھر بھی ان کے دلوں میں وہم پرستی کے ایسے بت مخفی ہیں کہ وہ قبلہ حقیقت تک پہنچنے سے سد راہ ہو رہے ہیں ۔ میں کامل یقین رکھتا ہوں کہ ان بتوں کے توڑنے کے لئے خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے اور میں کسی دلیل سے شبہ نہیں کر سکتا کہ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ان بتوں کو بکلی تو ڑ دیا جاوے اور خدا پرست لوگ گم گشتہ حقیقتوں کو پھر پالیویں خدا تعالیٰ جو تمام بھیدوں سے واقف ہے خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت اسلامیہ سے دور جا پڑے ہیں اور حقانیت کی مبارک روشنی کو انہوں نے