آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 602
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۰۰ آئینہ کمالات اسلام ۲۰۰ و رزق عباده من نفحات فیوضه و برکات نوره و ضیاء ہ ۔ ایک طرف کھڑے ہو کر قرآن کریم کے معارف بیان کریں اور ایک طرف میاں بٹالوی فرقان حمید کے کچھ حقائق بیان کرنا چاہیں تو مجھے یقین ہے اور گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت موصوف کے مقابل پر یہ بیچارہ نیم ملا گرفتار تحجب و پندار بٹالوی ایسا عاجز اور پیچھے رہ جاوے کہ ہر یک فقمند اس پر ہنسے مجھے ہر بار یہی تعجب آتا ہے کہ یہ حاطب اللیل باوجود اپنے اس بیجا تکبر اور کذب صریح کے کیوں اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتا اور خبث نفس سے علماء اور فضلاء کا حقارت سے نام لیتا ہے۔ اس کی مولویت اور اس کے ظنون فاسدہ کا فیصلہ نہایت آسان ہے جس کا اب بفضلہ تعالی وقت پہنچ گیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ میں اس فیصلہ کیلئے ایک معیار کامل اس مضمون کے اخیر میں بیان کروں گا۔ اب چند اعتراضات ضرور یہ کا جواب دیتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ قولہ ۔ نبیوں کی بھی پیشگوئیوں کا سچا ہونا ضروری ہے یا نہیں۔ صفحہ ۲۶۔ اقول ۔ اس سوال سے معترض نادان کی یہ غرض معلوم ہوتی ہے کہ گویا اس عاجز سے کوئی پیش گوئی خلاف واقعہ نکلی ہے۔ پس واضح ہو کہ یہ فیصلہ تو آسان ہے۔ معترض پر واجب ہے کہ ایک جلسہ مقرر کر کے وہ الہام اس عاجز کا پیش کرے کہ جو بقول اس کے نفس الہام میں غلطی ہو نہ کسی ظنی اور خیالی تعبیر میں ۔ لیکن ایسے شخص کیلئے کچھ مزا بھی چاہئے تابار بار دروغ گوئی کی نجاست کی طرف نہ دوڑے۔ قولہ ۔ جس شخص کی کوئی پیشگوئی سچی نکلے اور کوئی جھوٹی ۔ وہ سچی پیشگوئی میں ملہم ہوسکتا ہے۔ اقول ۔اے محجوب نادان کوئی پیشگوئی اس عاجز کی بفضلہ تعالیٰ آج تک جھوٹی نہیں نکلی بلکہ تین ہزار کے قریب اب تک بچی نکلیں اور نکلتی جاتی ہیں۔ رہی اجتہادی غلطی ،سو بخاری کو کھول اور ذھب و هلی کا مضمون یاد کر ۔ اور ان لوگوں کی مشابہت سے ڈر جو بعض پیشگوئیوں کی اجتہادی غلطیوں کو دیکھ کر مرتد ہو گئے تھے۔ قوله - ایسا شخص اگر جھوٹ بولتا ہو۔ لوگوں کے مال ناجائز مارتا ہو الخ تو پھر بھی وہ اگر اس کی کوئی پیشگوئی سچی نکل آوے۔ ملہم ، ولی، محدث اور خدا کا مخاطب ہو سکتا ہے؟ اقول ۔ آپ جیسے نابکار مفتریوں نے انبیاء پر بھی یہی الزام لگائے تھے ۔ حضرت ابراہیم پر جھوٹ کی تہمت ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی پر مال حرام کی اور اس زمانہ کے کور باطن عیسائی وغیرہ ایسے ہی الزام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے ہیں کہ فلاں قافلہ کا مال بغیر کسی موقعہ لڑائی کے لوٹ لیا۔ چنانچہ ان الزاموں سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ اب اگر یہ سوال ہو کہ ایک شخص نے ہزار ہا