آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 362
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۶۲ آئینہ کمالات اسلام ۳۶۲ نہایت غبی اور بلید اور بہائم اور حیوانات کے قریب قریب ہو جس کو انسانی قومی اور حافظہ اور متفکرہ سے نہایت کم حصہ ملا ہو اس لئے وہ قرآنی زبان کے جاننے پر قدرت نہ رکھتا ہوسو ایسا شخص بھی ولایت اور قرب الہی کے معزز درجہ سے شرف یاب نہیں ہوسکتا اور ایسے شخص کو ولی جانے والے بھی وحشیوں اور گدھوں سے کچھ کم نہیں ہوتے کیونکہ وہ باعث نہایت درجہ کے حمق کے اس درجہ تک نہیں پہنچتے کہ جس شخص کو وہ نعمت عطا نہیں ہوئی جو مدار ایمان ہے پھر دوسری نعمتوں سے وہ کب بہرہ یاب ہوسکتا ہے۔ اور اگر دوسری کرامت اس سے ظاہر بھی ہو تو وہ استدراج ہے نہ کرامت اور ایسا اندھیر تو کسی طور سے نہیں ہوسکتا کہ ولایت کا مدعی انسانی قومی کے معمولی درجہ سے بھی گرا ہوا ہو کیونکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ جن کو اپنے انعامات قرب سے مشرف کرتا ہے وہ لوگ انسانی کمالات میں سے بھی ایک وافر حصہ رکھتے ہیں۔ سو یہی حکمت معلوم ہوتی ہے کہ اس جگہ خدا تعالیٰ نے عربی خط کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس کی نظر میں کل ایسے اشخاص جو تقاعد اور تغافل کی راہ سے یا بلادت اور غباوت کی وجہ سے قرآنی زبان اور معانی قرآن سے محروم ہیں اس لائق ہی نہیں ہیں کہ ان کو باعزت انسان سمجھ کر ان سے خطاب کیا جائے بلکہ انہوں نے اپنی اس دائمی غفلت اور جہالت پسندی سے مہر لگا دی ہے کہ ان کو قرآن کریم سے کچھ تعلق محبت نہیں اور وہ در حقیقت اسلام کی راہ پر قدم نہیں مارتے بلکہ اور راہوں میں بھٹک رہے ہیں اور اگر بفرض محال کسی قسم کا ان کو ذوق بھی حاصل ہے تو ان کی روح اقرار نہیں کر سکتی کہ وہ قرآن کریم کے ذریعہ سے ہے کیونکہ قرآن کریم سے تو ان کو کچھ تعلق ہی نہیں اور نہ اس کی کچھ مزاولت ہے اور نہ ان کی روح یہ اقرار کر سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت سے انہوں نے کوئی مرتبہ طے کیا ہے کیونکہ انہوں نے قرآن کریم سے ہی کامل محبت نہیں کی پھر