آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 361

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۶۱ آئینہ کمالات اسلام پائی ہے۔ پھر جس شخص کو قرآن کریم کی محبت کا دعوی ہے بلکہ اپنے تئیں پیر اور شیخ ﴿۳۶﴾ کہلواتا ہے ۔ اس میں اگر محبوں کے آثار نہ پائے جائیں اور بکلی قرآن کریم کے معانی اور حقائق سے بے نصیب ہو تو یہی ایک دلیل اس بات پر کافی ہے کہ وہ اپنے دعویٰ فقر میں مکار ہے۔ ہر یک عاشق صادق اپنے معشوق کی زبان کو سیکھ لینے کا شوق رکھتا ہے پھر جس شخص کو محبت الہی کا دعوی ہے لیکن کلام الہی کے جاننے سے لا پروائی ہے وہ ہرگز محبت صادق نہیں ہے ۔ یا یوں کہو کہ اس کی حالت دوشق سے خالی نہیں یا تو اس نے عمد ا قرآن کریم کے معانی جاننے اور قرآنی زبان سیکھنے سے اعراض کیا ہے تو اس شق کا حال تو ابھی میں بیان کر چکا ہوں کہ یہ سرد مہری اہل اللہ کے مناسب حال نہیں ۔ اہل اللہ کو قرآن سے بہت عشق ہوتا ہے۔ اور عاشق کو اپنے معشوق سے ہرگز صبر نہیں ہوتا۔ اور برکت تعشق کامل قرآنی زبان کا جاننا ان پر آسان ہو جاتا ہے اور جو تحصیل علم کی راہیں دوسروں پر شاق ہوتی ہیں وہ ان پر آسان ہو جاتی ہیں اور چونکہ سردمہری ایک شعبہ نفاق کا ہے۔ اس لئے یہ منافقانہ خصلت اور کسل اور سستی ان سے صادر نہیں ہوسکتی کیونکہ قرآن کریم تو ان کی جان ہوتا ہے۔ پھر کیونکر وہ اپنی جان سے الگ ہو سکتے ہیں اور در حقیقت جو شخص اہل اللہ کے پیرا یہ میں ہو کر نہ قرآن کریم کے معنے سمجھتا ہے اور نہ اس کے حقائق معارف سے خبر رکھتا ہے وہ محب القرآن نہیں بلکہ مسخرہ شیطان ہے۔ اگر عنایت ازلی اس کی رفیق ہوتی تو اس دولت عظمی سے اس کو محروم نہ رکھتی ۔ پس مخذول اور مردود کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی علامت نہیں کہ اس کو دنیا میں آکر اور مسلمان کہلا کر اس قدر بھی نصیب نہ ہو کہ قرآن کریم کے معانی اور علوم ضرور یہ اور معارف اعجازی سے بکلی بے خبر ہو اور دوسرا شق یہ ہے کہ ایسا شخص