آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 360

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۶۰ آئینہ کمالات اسلام (۳۲۰) اگر چہ میں پہلے بھی کچھ ذکر فقراء زمانہ حال بضمن ذکر علماء ہندوستان و پنجاب اس کتاب میں لکھ آیا ہوں لیکن میں نے باتفاق رائے دوست مدوح کے یہی قرین مصلحت سمجھا کہ ایک مستقل خط ایسے فقراء کی طرف لکھا جائے جو شرع اور دین متین سے دور جا پڑے ہیں اور میرا ارادہ تھا کہ یہ خط اردو میں لکھوں لیکن رات کو بعض اشارات الہامی سے ایسا معلوم ہوا کہ یہ خط عربی میں لکھنا چاہئے اور یہ بھی الہام ہوا کہ ان لوگوں پر اثر بہت کم پڑے گا ہاں اتمام حجت ہوگا اور شاید عربی میں خط لکھنے کی یہ مصلحت ہو کہ جولوگ فقر اور تصوف کا دعویٰ رکھتے ہیں اور باعث شدت حجب غفلت اور عدم تعلقات محبت دین کے انہوں نے قرآن خوانی اور عربی دانی کی طرف توجہ ہی نہیں کی ۔ وہ اپنے دعوئی میں کا ذب ہیں اور خطاب کے لائق نہیں کیونکہ اگر ان کو اللہ جل شانہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی تو وہ ضرور جد و جہد سے وہ زبان حاصل کرتے جس میں خدا تعالیٰ کا پیارا اور پُر حکمت کلام نازل ہوا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کی اُن پر رحمت سے نظر ہوتی تو ضرور ان کو اپنا پاک کلام سمجھنے کے لئے تو فیق عطا کرتا اور اگر ان کو قرآن کریم سے سچا تعشق ہوتا تو وہ سجادہ نشینی کی خانقاہوں کو آگ لگاتے اور بیعت کرنے والوں سے بہ ہزار دل بیزار ہو جاتے اور سب سے اول علم قرآن کریم حاصل کرتے اور وہ زبان سیکھتے جس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے سوان کے ناقص الدین اور منافق ہونے کے لئے یہ کافی دلیل ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کی وہ قدر نہیں کی جو کرنی چاہئے تھی اور اس سے وہ محبت نہیں لگائی جو لگانی چاہئے تھی پس ان کا کھوٹ ظاہر ہو گیا دیکھنا چاہئے کہ بہت سے انگریز پادری ایسے ہیں جنہوں نے مخالفت کے جوش سے پچاس پچاس برس کے ہو کر عربی زبان کو سیکھا ہے اور قرآن کریم کے معانی پر اطلاع