آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 350

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۰ آئینہ کمالات اسلام ۳۵۰ باتوں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کوسنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہو گئے۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کیلئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کیلئے مجھے حکم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آ گیا ہے۔ مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پاسکتے جو ان راستبازوں کو لیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور واللہ جل شانہ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آ گئی۔ انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ وجلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔ با کمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرایہ میں اس کو پاوے اور شناخت کر لیوے۔ مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں۔ ایک ہی ہے جو دیتا ہے وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں ان کیلئے جن کے دلوں میں آئی ہے زیادہ تر بی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میں میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح اور راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بند نہیں۔ ان نشانوں کیلئے ادنی ادنی میعادوں کا ذکر کرنا یہ ادب سے دور ہے خدا تعالیٰ یعنی بے نیاز ہے جب مکہ کے کا فرآ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے کہ نشان کب ظاہر ہوں گے تو خدا تعالی نے بھی یہ جواب نہ دیا کہ فلاں تاریخ نشان ظاہر ہوں گے کیونکہ یہ سوال ہی بے ادبی سے پر تھا اور گستاخی سے بھرا ہوا تھا انسان اس نابکار اور بے بنیاد دنیا کیلئے سالہا سال انتظاروں میں وقت خرچ کر دیتا ہے۔ ایک امتحان دینے میں کئی برسوں سے طیاری کرتا ہے وہ عمارتیں شروع کر دیتا ہے جو برسوں میں ختم ہوں وہ پورے باغ میں لگاتا ہے جن کا پھل کھانے کیلئے ایک دور زمانہ تک انتظار کرنا ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ کی راہ میں کیوں جلدی کرتا ہے اس کا باعث بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ دین کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے انسان خدا تعالیٰ سے نشان طلب کرتا ہے اور اپنے دل میں مقرر نہیں کرتا کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کی راہ میں کونسی جانفشانی کروں گا اور کس قدر دنیا کو چھوڑ دوں گا اور کہاں تک خدا تعالیٰ کے مامور بندہ کے پیچھے ہو چلوں گا بلکہ غافل انسان ایک تماشا کی طرح نشان کو سمجھتا ہے حواریوں نے حضرت مسیح سے نشان مانگا تھا کہ ہمارے لئے