آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 348
۳۴۸ آئینہ کمالات اسلام قطعی طور پر روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۸ اس دعوت میں نکتہ چینی کرتے ہیں در حقیقت یہ ان کی دروغ گوئی اور نجاست خواری ہے مجھے یہ قط بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف دین میرے سامنے مقابلہ کیلئے آئے گا تو میں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہوگا۔ پھر یہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں اور میری نسبت شبک رکھتے ہیں کیوں اس زمانہ کے کسی پادری سے میرا مقابلہ نہیں کراتے کسی پادری یا پنڈت کو کہہ دیں کہ یہ شخص در حقیقت مفتری ہے اس کے ساتھ مقابلہ کرنے میں کچھ نقصان نہیں ہم ذمہ وار ہیں پھر خدا تعالیٰ خود فیصلہ کر دے گا۔ میں اس بات پر راضی ہوں کہ جس قدر دنیا کی جائیداد یعنی اراضی و غیرہ بطور وراثت میرے قبضہ میں آئی ہے بحالت دروغ گو نکلنے کے وہ سب اس پادری یا پنڈت کو دے دوں گا۔ اگر وہ دروغ گونکلا تو بجز اس کے اسلام لانے کے میں اس سے کچھ نہیں مانگتا یہ بات میں نے اپنے جی میں جز ما ٹھہرائی ہے اور تہ دل سے بیان کی ہے اور اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس مقابلہ کیلئے طیار ہوں اور اشتہار دینے کیلئے مستعد بلکہ میں نے تو بارہ ہزار اشتہار شائع کر دیا ہے بلکہ میں بلاتا بلا تا تھک گیا۔ کوئی پنڈت پادری نیک نیتی سے سامنے نہیں آیا میری سچائی کیلئے اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہوسکتی ہے کہ میں اس مقابلہ کیلئے ہر وقت حاضر ہوں اور اگر کوئی مقابلہ پر کچھ نشان دکھلانے کا دعویٰ نہ کرے تو ایسا پنڈت یا پادری صرف اخبار کے ذریعہ سے یہ شائع کر دے کہ میں صرف یکطرفہ کوئی امر خارق عادت دیکھنے کو طیار ہوں اور اگر امر خارق عادت ظاہر ہو جائے اور میں اس کا مقابلہ نہ کر سکوں تو فی الفور اسلام قبول کروں گا تو یہ تجویز بھی مجھے منظور ہے۔ کوئی مسلمانوں میں سے ہمت کرے اور جس شخص کو کافر بے دین کہتے ہیں اور دجال نام رکھتے ہیں بمقابل کسی پادری کے اس کا امتحان کر لیں اور آپ صرف تماشا دیکھیں۔ (۵) پانچویں علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ میں ان مسلمانوں پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں ان کے ملہموں کو چاہیئے کہ میرے مقابل پر آویں پھر اگر تائید الہی میں اور فیض سماوی میں اور آسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب ہو جائیں تو جس کا رد سے چاہیں مجھ کو ذبح کر دیں مجھے منظور ہے اور اگر مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو کفر کے فتوے دینے والے جو الہام میرے مخاطب ہیں یعنے جن کو مخاطب ہونے کیلئے الہام الہی مجھ کو ہو گیا ہے پہلے لکھ دیں اور شائع کرا دیں کہ اگر کوئی خارق عادت امر دیکھیں تو بلا چون و چرا دعوی کو منظور کر لیں میں اس کام کیلئے بھی حاضر ہوں اور میرا خداوند کریم میرے ساتھ ہے لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ میں ایسا مقابلہ صرف آئمتہ الکفر سے کروں انہیں سے مباہلہ کروں اور انہیں سے اگر وہ چاہیں یہ مقابلہ کروں مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ ہرگز مقابلہ نہیں کریں گے کیونکہ حقانیت