آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 347
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۷ آئینہ کمالات اسلام اور اب صفحہ دنیا میں ذریت ان کی بجز چندلا کھ کے باقی نہیں اور وہ بھی ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَهُ وَالْمَسْكَنَةُ ﴿٣٢﴾ کے مصداق اور اپنی دنیاداری کے خیالات میں غرق اور نظروں سے گرے ہوئے ہیں لیکن عیسائی قوم اس زمانہ میں چالیس کروڑ سے کچھ زیادہ ہے اور بڑے زور سے اپنے دجالی خیالات کو پھیلا رہی ہے اور صد ہا پیرایوں میں اپنے شیطانی منصوبوں کو دلوں میں جاگزین کر رہی ہے بعض واعظوں کے رنگ میں پھرتے ہیں بعض گویے بن کر گیت گاتے ہیں بعض شاعر بن کر تثلیث کے متعلق غزلیں سناتے ہیں بعض جوگی بن کر اپنے خیالات کو شائع کرتے پھرتے ہیں۔ بعض نے یہی خدمت کی ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی محرف انجیل کا ترجمہ کر کے اور ایساہی دوسری کتابیں اسلام کے مقابل پر ہر ایک زبان میں لکھ کر تقسیم کرتے پھرتے ہیں بعض تھیٹر کے پیرا یہ میں اسلام کی بُری تصویر لوگوں کے دلوں میں جماتے ہیں اور ان کاموں میں کروڑ ہا رو پیدان کا خرچ ہوتا ہے اور بعض ایک فوج بنا کر اور مکتی فوج اس کا نام رکھ کر ملک یہ ملک پھرتے ہیں اور ایسا ہی اور اور کارروائیوں نے بھی جو اُن کے مرد بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں بھی کروڑ با بندگان خدا کو نقصان پہنچایا ہے اور بات انتہا تک پہنچ گئی ہے اس لئے ضرور تھا کہ اس زمانہ میں حضرت مسیح کی روحانیت جوش میں آتی اور اپنی شبیہ کے نزول کیلئے جو اس کی حقیقت سے متحد ہو تقاضا کرتی سواس عاجز کے صدق کی شناخت کیلئے یہ ایک بڑی علامت ہے مگران کیلئے جو سمجھتے ہیں۔ اسلام کے صوفی جو قبروں سے فیض طلب کرنے کے عادی ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ ایک فوت شدہ نبی یاولی کی روحانیت بھی ایک زندہ مرد خدا سے متحد ہو جاتی ہے جس کو کہتے ہیں فلاں ولی موسیٰ کے قدم پر ہے اور فلاں ابراہیم کے قدم پر یا محمدی المشرب اور ابراہیمی المشرب نام رکھتے ہیں وہ ضرور اس دقیقہ معرفت کی طرف توجہ کریں۔ (۳) تیسری علامت اِس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ بعض اہل اللہ نے اس عاجز سے بہت سے سال پہلے اس عاجز کے آنے کی خبر دی ہے یہاں تک کہ نام اور سکونت اور عمر کا حال بتصریح بتلایا ہے جیسا کہ نشان آسمانی میں لکھ چکا ہوں۔ (۴) چوتھی علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ اس عاجز نے بارہ ہزار کے قریب خط اور اشتہار الہامی برکات کے مقابلہ کیلئے مذاہب غیر کی طرف روانہ کئے بالخصوص پادریوں میں سے شاید ایک بھی نامی پادری یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں باقی نہیں رہا ہو گا جس کی طرف خط رجسٹری کر کے نہ بھیجا ہو مگر سب پر حق کا رعب چھا گیا۔ اب جو ہماری قوم کے ملا مولوی لوگ البقرة : ٦٢