آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 334 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 334

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۴ آئینہ کمالات اسلام (۳۲۴) پہلی امتوں میں جب ان کے نبیوں نے نشان دکھلائے تو ان نشانوں کو دیکھ کر بھی لوگ ایمان نہ لائے کیونکہ وہ نشان دیکھنے سے پہلے تکذیب کر چکے تھے۔ اسی طرح خدا ان لوگوں کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے جو اس قسم کے کافر ہیں جو نشان سے پہلے ایمان نہیں لاتے ۔ یہ تمام آیتیں اور ایساہی اور بہت سی آیتیں قرآن کریم کی جن کا اس وقت لکھنا موجب طوالت ہے بالا تفاق بیان فرما رہی ہیں کہ نشان کو طلب کرنے والے مور د غضب الہی ہوتے ہیں اور جو شخص نشان دیکھنے سے ایمان لاوے اس کا ایمان منظور نہیں اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں۔ اول یہ کہ نشان طلب کرنے والے کیوں مورد غضب الہی نہیں جو شخص اپنے اطمینان کے لئے یہ آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ یہ شخص منجانب اللہ ہے یا نہیں بظاہر وہ نشان طلب کرنے کا حق رکھتا ہے تا دھوکا نہ کھاوے اور مردود الہی کو مقبول الہی خیال نہ کر لیوے۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ تمام ثواب ایمان پر مترتب ہوتا ہے اور ایمان اسی بات کا نام ہے کہ جو بات پر دہ غیب میں ہو اس کو قرائن مرجحہ کے لحاظ سے قبول کیا جائے یعنی اس قدر دیکھ لیا جائے کہ مثلاً صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں اور قرائن موجودہ ایک شخص کے صادق ہونے پر بہ نسبت اس کے کا ذب ہونے کے بکثرت پائے جاتے ہیں۔ یہ تو ایمان کی حد ہے لیکن اگر اس حد سے بڑھ کر کوئی شخص نشان طلب کرتا ہے تو وہ عند اللہ فاسق ہے اور اسی کے بارے میں اللہ جلشانۂ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کو ایمان نفع نہیں دے گا۔ یہ بات سوچنے سے جلد سمجھ میں آ سکتی ہے کہ انسان ایمان لانے سے کیوں خدا تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جن چیزوں کو ہم ایمانی طور پر قبول کر لیتے ہیں وہ بکل الوجوہ ہم پر مکشوف نہیں ہو تیں مثلاً انسان خدائے تعالی پر ایمان لاتا ہے مگر اس کو دیکھا نہیں۔ فرشتوں پر بھی ایمان لاتا ہے لیکن وہ بھی نہیں دیکھے ۔ بہشت اور دوزخ پر ایمان لاتا ہے اور وہ بھی نظر سے غائب ہیں محض حسن ظن سے مان لیتا ہے اس لئے خدائے تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہر جاتا ہے اور یہ صدق اس کیلئے موجب نجات ہو جاتا ہے ورنہ ظاہر ہے کہ بہشت اور دوزخ اور ملائک ایک مخلوق خدائے تعالیٰ کی ہے ان پر ایمان لانا نجات سے کیا تعلق رکھتا ہے۔ جو چیز واقعی طور پر موجود ہے اور بدیہی طور پر اس کا موجود ہونا ظاہر ہے اگر ہم اس کو موجود مان لیں تو کس اجر کے ہم مستحق ٹھہر سکتے ہیں مثلاً اگر