آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 327

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۲۷ آئینہ کمالات اسلام جھی سے شش و پنج میں ہے کبھی آپ کا دعوئی ٹھیک معلوم ہوتا ہے اور کبھی تذبذب ﴿۳۷﴾ کی حالت ہو جاتی ہے ۔ گو یا قبض اور بسط کی سی کیفیت ہے ۔ اب قال قیل بہت ہو چکی اپنی تو اس سے اطمینان نہیں ہوتی کیونکہ مخالف اور موافق باتوں نے دل کی عجب کیفیت کر دی ہے بلکہ بعض اوقات اسلام کے سچے ہونے میں شبہ ہو جاتا ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جس نے ہماری راہ میں کوشش کی ہم اس کو اپنا راستہ دکھاتے ہیں اور دوسری طرف یہ حیرانی ہے کہ وہ وعدہ پورا نہیں ہوتا ۔ گوکسی نے استخارہ نہ کیا ہولیکن سینکڑوں آدمی دل و جان سے کوشاں ہیں کہ ہم کو سیدھا راستہ معلوم ہو جاوے اور سچائی ظاہر ہو۔ اب مندرجہ ذیل امورات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ جس سے اب صداقت ظاہر ہو ۔ اول اب کوئی عذر اس قسم کا نہیں رہا کہ اب مباہلہ کیلئے مخالفوں کو نہ بلایا جاوے ۔ کیونکہ جیسا کہ آپ نے مولوی عبدالحق کے جواب میں تحریر فرمایا تھا کہ جب تک مباحثہ ہو کر طلب مباہلہ نہ ہو مباہلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ اختلاف اجتہادی ہے ۔ لیکن اب یہ بات نہیں رہی بلکہ مخالفت بہت ہو گئی ہے اور حجت قائم ہو چکی ۔ اب آپ کو مخالفوں سے مباہلہ کرنا چاہیئے اور توجہ کر کے خداوند تعالیٰ سے اس بات کی اجازت چاہنی چاہیئے کہ مباہلہ کیا جاوے اور اس مباہلہ کا اثر قریب زمانہ میں ہو جو ماہ دو ماہ سے زائد نہ ہو کہ لوگ میعاد بعید سے گھبرا جاتے ہیں ۔ اور اگر یہ کہا جاوے کہ مباہلہ سے جو لوگ نہ ماننے والے ہیں نہیں