آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 314 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 314

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۴ آئینہ کمالات اسلام (۳۴) نشان آسمانی دکھانے کیلئے انعام کے وعدہ پر بلاتے ہیں۔ ہم موافقین کو بلا وعدہ انعام بھی نہیں بلاتے تو آپ ہنس کر چپ ہو گئے پھر جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو میں نے اپنا خلاف ظاہر کر کے آپ کے پاس آنا اور دوستانہ پرائیویٹ گفتگو کرنا چاہا تو آپ بلانے کا وعدہ دیتے دیتے اودیا نہ میں جابر اجے اور وہاں جا کر مخاصمانہ بحث کا اکھاڑہ جما کرنا جائز اور بحث کو ٹلانے کے شروط سے پناہ گزین ہوئے ۔ پھر جب بمقام لو دیا نہ آپ کے گھر پر پہنچ کر آپ کو گفتگو پر مجبور کیا تو آپ نے اس با امن گفتگو کو نا تمام چھوڑ کر پھر مخاصمانہ اکھاڑہ جمانے کا اہتمام کیا۔ اور دہلی ، پٹیالہ، لاہور، سیالکوٹ وغیرہ میں مخاصمانہ بحث کا علم بلند کیا۔ اور پھر بحث سے گریز کر کے انواع اتہام و اکاذیب کا اشتہار کیا اور اسی اثناء میں فیصلہ آسمانی لکھ مارا جس میں کوئی دقیقہ بے رحمی و بد گوئی کا فروگذاشت نہ کیا۔ اس بے رحمی و نفسانی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ پڑ گیا۔ بھائی بھائی سے اور دوست دوست سے الگ ہو گیا۔ کیا رحمت و ہمدردی کا یہی اثر ہے۔ آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے اپنا خلاف آپ کے دعویٰ مسیحائی سے ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے (جیسا کہ پہلے بھی آپ سے وقوع میں آتا رہا۔ اور کم سے کم تین دفعہ آپ نے غریب خانہ میں قدم رنجہ فرما کر رابطہ اتحاد ظاہر کیا تھا) اور اس صورت سے آپ اپنے دعوئی جدیدہ کو ثابت کر دکھاتے اب جو آپ نے یہ خط ارسال فرمایا ہے۔ یہ بھی آپ کی خود غرضی اور نیت فساد سے خالی نہیں۔ اس میں خود غرضی یہ ہے کہ آپ کے مرید آپ کو نیک نیت اور اپنے دعویٰ میں ثابت قدم اور مقابلہ مخالفین کیلئے مستعد سمجھیں نیت فساد کی یہ ہے