آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 313

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۳ آئینہ کمالات اسلام اور بعض تماشائی جن کو تحقیق اصل حال سے کوئی غرض نہ تھی ۔ بڑی شدو مد سے بیان (۳۱۳) کیا تھا واقعی الہام ہونا ثابت کر دیں۔ اب مرد میدان ہیں تو میدان میں نکلیں ورنہ ان لن ترانیوں سے شرم کریں ۔ اپنے دریائے رحمت کے جوش و جنبش میں آنے کا جو آپ نے ذکر کیا ہے۔ اس میں بھی آپ نے اپنی سنت قدیم کذب و دھوکا دہی سے کام لیا ہے ۔ آپ کو رحمت سے کیا نسبت ۔ رحمت اور ہمدردی کا تو آپ میں مادہ ہی نہیں ۔ آپ کے افعال و حرکات و کلمات صاف شہادت دے رہے ہیں کہ آپ پر لے سرے کے بے رحم اور خودغرض جانی اور نفسانی آدمی ہیں ۔ آپ کی زبان اور حجاج بن یوسف کی تلوار دو نو تو ام ہیں ۔ آپ نے اپنے مخالفین اور معترضین کو اس حالت اور اس وقت میں جبکہ آپ ان کو مخدومی اخوی کے خطاب سے یاد کرتے اور ان کی نیک نیتی کے معترف تھے ۔ بے حیا، بے ایمان، درندہ ، منہ سے جھاگ نکالنے والا ۔ کتا ، گلب يموت على كلب ، سفلہ، کمینہ، وحشی وغیرہ وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے کیا رحمت اور انسانی نوع کی ہمدردی یہی معنے رکھتی ہے؟ آپ مسلمانوں کا دس ہزار سے زیادہ روپیہ کتاب براہین احمدیہ کی قیمت اور قبولیت دعاؤں کی طمع دے کر خورد برد کر چکے ہیں اور کتاب براہین ہنوز در بطن شاعر کا مصداق ہے۔ اور قبولیت دعاؤں کے امیدوار آپ کے منہ دیکھ رہے ہیں ۔ کیا ہمدردی و رحم اسی کا نام ہے؟ جب مجھے آپ سے آپ کے امکانی ولی ہونے کی نظر سے حسن ظنی تھی تو میں نے آپ سے بار ہا التجا کی کہ مجھے آپ اپنے پاس ٹھہرا کر رحمت و برکت کے آثار دکھا ئیں۔ آپ نے کبھی ہاں نہ کی۔ ایک دفعہ میں نے آپ کو یہ بھی کہا تھا کہ آپ کے مخالف ومنکر اچھے رہے کہ آپ ان کو