آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 312
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۲ آئینہ کمالات اسلام ۳۱۲ اس قسم کی اور پیشین گوئیاں مشتہر کی ہیں علی الخصوص 90ء سے جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی مشتہر کیا ہے اس سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی خط کوئی تصنیف خالی نہیں ہے۔ اس سے قیاس ہو سکتا ہے کہ پہلے زمانہ میں خصوصاً امتحان مختار کاری میں فیل ہونے اور پھر عدالت میں سالہا سال اپنے مقدمات کرنے کے وقت آپ کا یہی حال رہا ہوگا۔ اس سے ہریک ، ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بندوں پر جھوٹ بولنے اور ان کو دھوکا دینے میں ایسا دلیر ہو وہ خدا پر افتراء کرنے سے کہ میں ملہم ہوں اور مجھے الہام ہوا ہے کہ فلاں شخص مجھے بیٹی نہ دے گا تو ہلاک ہو جاوے گا اور فلاں شخص مجھے مسیح نہ مانے گا تو وہ عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ کس طرح رک سکتا ہے اور اس دعویٰ الہام میں کیونکر سچا سمجھا جا سکتا ہے۔ آپ اس قسم کے تین ہزار الہامات کے صادق ہونے کے مدعی ہیں۔ میں ان تین ہزار میں سے صرف تین الہاموں کے صادق ٹھہرنے پر آپ کو لہم مان لوں گا اور یہ سمجھوں گا کہ میں نے آپ کے عقائد و تعلیمات کو مخالف حق اور آپ کو بداخلاق اور گمراہ سمجھنے میں غلطی کی۔ ان تین ہزار میں سے جن تین الہاموں کو آپ بین الصدق سمجھتے ہیں ۔ مثلاً دیانند سرستی کی موت کے متعلق الہام یا شیخ مہر علی کی رہائی کی نسبت الہام یا دلیپ سنگھ کی ناکامی سے واپس ہونے کی نسبت الہام یا آپ کے آئندہ اور فرضی خُسر کے فوت ہو جانے کی نسبت الہام و امثال ذالک ان کو آپ کسی ایسی مجلس میں جس میں جانبین کے اشخاص مساوی ہوں اور تین منصف مختلف مذاہب کے یا آزاد مشرب ہوں ثابت کر دیں اور آسانی سے کامیاب ہوں۔ تین نہ سہی چلو ایک ہی اپنے خیالی الہام اخیر کا جس کو آپ نے اپنے جلسہ میلہ سالانہ میں اپنے معتقدوں اور دام افتادگان میں جو اکثر عوام بے علم تھے اور بعض خود غرض نیچری یہ پیشگوئی سچی تھی کہ اپنی میعاد کے اندر پوری ہوگئی کیونکہ مضمون پیشگوئی یہ تھا کہ اگر مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری اپنی بیٹی نہیں دے گا تو نکاح کرنے کے بعد تین برس کے عرصہ تک فوت ہو جائے گا چنانچہ مرزا احمد بیگ نے اس الہام کے سنے کے بعد پانچ برس تک اپن لڑکی کا کا کسی جگہ کا ن کیا اور زندہ رہا پھر پانچ برس کے بعد اس نے اُس کا ایک جگہ نکاح کر دیا اور نکاح کے چھٹے مہینے پیشگوئی کی میعاد میں مر گیا ۔ اگر یہ انسان کا کام ہے تو بٹالوی کو قسم ہے کہ ایسے ثبوت کی کوئی نظیر پیش کرے جس کی خدا تعالیٰ نے سچائی ظاہر کر دی ہو یا آپ ہی بنا کر دکھلاوے ورنہ اس لعنت سے ڈرے جو سچائی کے دشمنوں پر ایسی جلد اترتی ہے جیسا کہ پہاڑ کی چوٹی سے نیچے کی طرف پتھر ۔ منہ ☆