آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 306 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 306

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۶ آئینہ کمالات اسلام ۳۰۶ اپنے اوپر وارد کر رہے ہیں۔ میں نے ہر گز کسی کے پا کسی کے پاس یہ نہیں کہا کہ اس کا مصداق آر ا مصداق آپ ہیں اور جو بعض درشت کلمات کی آپ شکایت کرتے ہیں یہ بھی بے جا ہے ۔ آپ کی سخت بد زبانیوں کے جواب میں آپ کے کافر ٹھہرانے کے بعد آپ کے دجال اور شیطان اور کذاب کہنے کے بعد اگر ہم نے آپ کی موجودہ حالت کے مناسب آپ کو کچھ حق حق کہہ دیا تو کیا بُرا کیا آخر وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ عَلَيْهِمْ نے کا بھی تو ایک وقت ہے۔ آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کی فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لیکر خورد برد کر گیا ہے۔ یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں ۔ اگر براہین طبع ہو کر شائع ہو گئی تو کیا اس دن شرم کا تقاضا نہیں ہوگا کہ آپ غرق ہو جائیں۔ ہر یک دیر بدظنی پر مبنی نہیں ہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر یک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ واپس بھی کر دیا۔ قرآن کریم جس کی خلق اللہ کو بہت ضرورت تھی اور جو لوح محفوظ میں قدیم سے جمع تھا تمھیں ۲۳ سال میں نازل ہوا اور آپ جیسے بدظنیوں کے مارے ہوئے اعتراض کرتے رہے کہ لَوْلَا نُزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً قوله جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعوی مشتہر کیا ہے اس دن سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی خط کوئی تصنیف جھوٹ سے خالی نہیں ۔ اقول اے شیخ نامہ سیاہ ۔ اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اور کیا لکھوں، خدائے تعالیٰ تجھ کو آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا۔ اے بد قسمت انسان تو ان بہتانوں کے ساتھ کب تک جئے گا ۔ کب تک تو اس لڑائی میں جو خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے موت سے بچتا رہے گا۔ اگر مجھ کو تو نے یا کسی نے اپنی نابینائی سے دروغ گو سمجھا تو التحريم : ١٠ الفرقان : ۳۳