آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 304
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۴ آئینہ کمالات اسلام ۳۰۴ نه وکیل بلکہ فیل شدہ (بھی) نہیں تھے مگر پیٹ بھرنے کیلئے سب کچھ کیا لیکن یہ عاجز تو بجز اپنی زمینداری کے مقدمات کے جن میں اکثر آپ کے والد صاحب جیسے بلکہ عزت اور لیاقت میں ان سے بڑھ کر مختار بھی کئے ہوئے تھے ۔ دوسروں کے مقدمات سے کبھی کچھ غرض نہیں رکھتا تھا۔ اور مجھے کو یاد ہے بلکہ آپ کو بھی یاد ہوگا کہ ایک دفعہ آپ کے والد صاحب نے بھی مقام بٹالہ میں حضرت مرزا صاحب مرحوم کی خدمت میں اپنی تمنا ظاہر کی تھی کہ مجھ کو بعض مقدمات کے لئے نوکر رکھا جاوے تا بطور مختار عدالتوں میں جاؤں مگر چونکہ زمینداری مقدمات کی پیروی کی ان میں لیاقت نہیں تھی اس لئے عذر کر دیا گیا تھا۔ قوله آپ نے الہامی بیٹا تولد ہونے کی پیشگوئی کی یعنی جھوٹ بولا۔ اقول آپ اپنے سفلہ پنے سے باز نہیں آتے خدا جانے آپ کس خمیر کے ہیں۔ اس پیشگوئی میں کونسی دروغ کی بات نکلی ۔ اگر آپ کا یہ مطلب ہے کہ پیشگوئی کے بعد ایک لڑکا پیدا ہوا اور مرگیا تو کیا آپ یہ ثبوت دے سکتے ہیں کہ کسی الہام میں یہ مضمون درج تھا کہ وہ موعو دلٹر کا وہی ہے اگر دے سکتے ہیں تو وہ الہام پیش کریں۔ یادر ہے کہ ایسا کوئی الہام نہیں ہاں اگر میں نے اجتہادی طور پر کہا ہو کہ شاید یہ لڑکا وہی موعود دلڑکا ہے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ الہام غلط نکلا ۔ آپ کو معلوم نہیں کہ کبھی ملہم اپنے الہام میں اجتہاد بھی کرتا ہے اور کبھی وہ اجتہاد خطا بھی جاتا ہے مگر اس سے الہام کی وقعت اور عظمت میں کچھ فرق نہیں آتا ۔ صدہا مرتبہ ہر ایک کو اتفاق پیش آتا ہے کہ ایک خواب تو سچی ہوتی ہے مگر تعبیر میں غلطی ہو جاتی ہے۔ یہ ہدایت اور یہ معرفت کا دقیقہ تو خاص قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے لیکن ان کے لئے جو آنکھیں رکھتے ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ آج تو آپ نے مجھ پر اعتراض کیا کبھی ایسا نہ ہو کہ کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کر دیں اور کہیں کہ آنجناب نے جس وحی کی تصدیق کے لئے یعنی طواف کی غرض سے دو سو کوس کا سفر