آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 300
روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام (۳۰۰) تلف ملکیت اٹھانا پڑتا تھا۔ تب فریق مخالف نے موقعہ پا کر میری گواہی لکھا دی اور میں بٹالہ میں گیا اور با بوفتح الدین سب پوسٹ ماسٹر کے مکان پر جو تحصیل بٹالہ کے پاس ہے جانٹھہرا۔ اور مقدمہ ایک ہند و منصف کے پاس تھا جس کا اب نام یاد نہیں رہا مگر ایک پاؤں سے وہ لنگڑا بھی تھا اس وقت سلطان احمد کا وکیل میرے پاس آیا کہ اب وقت پیشی مقدمہ ہے آپ کیا اظہار دیں گے۔ میں نے کہا کہ وہ اظہار دوں گا جو واقعی امر اور سچ ہے تب اس نے کہا کہ پھر آپ کے کچہری جانے کی کیا ضرورت ہے میں جاتا ہوں تا مقدمہ سے دستبردار ہو جاؤں سو وہ مقدمہ میں نے اپنے ہاتھوں سے محض رعایت صدق کی وجہ سے آپ خراب کیا اور راست گوئی کو ابتغاء لمرضات الله مقدم رکھ کر مالی نقصان کو بیج سمجھا۔ یہ آخری دو نمونے بھی بے ثبوت نہیں۔ پہلے واقعہ کا گواہ شیخ علی احمد وکیل گورداسپور اور سردار محمد حیات خان صاحب سی ایس آئی ہیں اور نیز مثل مقدمہ دفتر گورداسپورہ میں موجود ہوگی۔ اور دوسرے واقعہ کا گواہ با بو فتح الدین اور خود وکیل جس کا اس وقت مجھ کو نام یاد نہیں اور نیز وہ منصف جس کا ذکر کر چکا ہوں جواب شاید لدھیانہ میں بدل گیا ہے۔ غالبا اس مقدمہ کو سات برس کے قریب گذرا ہو گا ہاں یاد آیا اس مقدمہ کا ایک گواہ نبی بخش پٹواری بٹالہ بھی ہے۔ اب اے حضرت شیخ صاحب اگر آپ کے پاس بھی اس درجہ ابتلا کی کوئی نظیر ہو جس میں آپ کی جان اور آبرو اور مال راست گوئی کی حالت میں برباد ہوتا آپ کو دکھائی دیا ہو اور آپ نے بیچ کو نہ چھوڑا ہو اور مال اور جان کی کچھ پرواہ نہ کی ہوتو یہ وہ واقعہ اپنا معہ اس کے کامل ثبوت کے پیش کیجئے ورنہ میرا تو یہ اعتقاد ہے کہ اس زمانہ کے اکثر ملا اور مولویوں کی باتیں ہی باتیں ہیں۔ ورنہ ایک پیسہ پر ایمان بیچنے کو طیار ہیں کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانہ کے مولویوں کو بدترین خلائق بیان فرمایا ہے اور