آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 296
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۹۶ آئینہ کمالات اسلام یہ وہ فیصلہ ہے جو خدائے تعالیٰ آپ کر دے گا۔ کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ مومن بہر حال غالب رہے گا چنانچہ وہ خود فرماتا ہے لَنْ يَجْعَلَ اللهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا یعنے ایسا ہر گز نہیں ہوگا کہ کا فرمومن پر راہ پاوے اور نیز فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا انْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلْ لَكُمْ فُرْقَانَا - وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِہ ہے۔ یعنی اے مومنوا گر تم متقی بن جاؤ تو تم میں اور تمہارے غیر میں خدا تعالیٰ ایک فرق رکھ دے گا۔ وہ فرق کیا ہے کہ تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو تمہارے غیر میں ہرگز نہیں پایا جائے گا یعنی نور الہام اور نو را جابت دعا اور نور کرامات اصطفاء اب ظاہر ہے کہ جس نے جھوٹ کو بھی ترک نہیں کیا وہ کیونکر خدا تعالیٰ کے آگے متقی ٹھہر سکتا ہے اور کیونکر اس سے کرامات صادر ہو سکتی ہیں۔ غرض اس طریق سے ہم دونوں کی حقیقت مخفی کھل جائے گی اور لوگ دیکھ لیں گے کہ کون میدان میں آتا ہے اور کون بموجب آیت کریم لهم البشرى اور حدیث نبوی اصدقکم حدیثا کے صادق ثابت ہوتا ہے۔ مع هذا ایک اور بات بھی ذریعہ آزمائش صادقین ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس وقت بجز کذب کے اور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اس کو نظر نہیں آتا۔ تب اس وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی سرشت میں صدق ہے یا کذب اور آیا اس نازک وقت میں اس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے۔ اس قسم کے نمونے اس عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں جن کا مفصل بیان کرنا موجب تطویل ہے تاہم تین نمونے اس غرض سے پیش کرتا ہوں کہ اگر ان کے برابر بھی آپ کو کبھی آزمائش صدق کے موقع پیش آئے ہیں تو آپ کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ آپ ان کو معہ ثبوت ان کے ضرور شائع کریں تا معلوم ہو کہ آپ کا صرف دعوی نہیں بلکہ امتحان اور بلا کے شکنجہ میں بھی آکر آپ نے صدق نہیں تو ڑا ۔ ا النساء : ۱۴۲ الانفال : ٣٠ الحديد : ٢٩