آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 284 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 284

روحانی خزائن جلد ۵ ۲۸۴ آئینہ کمالات اسلام (۲۸۳) انسان دنیا میں محنتوں اور نامردوں کی طرح رہے بلکہ ایمان میں قومی الطاقت وہ ہے جو بیویوں اور بچوں کا سب سے بڑھ کر بوجھ اٹھا کر پھر با وجود ان سب تعلقات کے بے تعلق ہو ۔ خدا تعالی کا بندہ سے محب اور محبوب ہونے کا جوڑ ہونا ایک تیسری چیز کے وجود کو چاہتا ہے وہ کیا ہے؟ ایمانی روح جو مومن میں پیدا ہو کر نئے حواس اس کو بخشتی ہے اسی روح کے ذریعہ سے خدائے تعالیٰ کا کلام مومن سنتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے کچی اور دائمی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور اسی کے ذریعہ سے نئی زندگی کی خارق عادت طاقتیں اس میں پیدا ہوتی ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ جولوگ جوگی اور راہب اور سنیاسی کہلاتے ہیں یہ پاک روح ان میں سے کس کو دی گئی ہے۔ کیا کسی پادری میں یہ پاک روح یا یوں کہو کہ روح القدس پائی جاتی ہے۔ ہم تمام دنیا کے پادریوں کو بلاتے بلاتے تھک بھی گئے کسی نے آواز تک نہیں دی۔ نور افشاں میں بعض پادریوں نے چھپوایا تھا کہ ہم ایک جلسہ میں ایک لفافہ بند پیش کریں گے اس کا مضمون الہام کے ذریعہ سے ہمیں بتلایا جائے لیکن جب ہماری طرف سے مسلمان ہونے کی شرط سے یہ درخواست منظور ہوئی تو پھر پادریوں نے اس طرف رخ بھی نہ کیا۔ پادری لوگ مدت سے الہام پر مہر لگا بیٹھے تھے ۔ اب جب مہر ٹوٹی اور فیض روح القدس مسلمانوں پر ثابت ہوا تو پادریوں کے اعتقاد کی قلعی کھل گئی ۔ لہذا ضرور تھا کہ پادریوں کو ہمارے الہام سے دوہرا رنج ہوتا۔ ایک مہر ٹوٹنے کا دوسرے الہام کی نقل مکانی کا۔ سو نورافشاں کی سخت زبانی کا اصل موجب وہی رنج ہے جو ز بولی دق کی طرح لا علاج ہے۔ اب یہ جاننا چاہیے کہ جس خط کو ارمئی ۱۸۸۸ء کے نور افشاں میں فریق مخالف نے چھپوایا ہے۔ وہ خط محض ربانی اشارہ سے لکھا گیا تھا۔ ایک مدت دراز سے بعض سرگروہ اور قریبی رشتہ دار مکتوب الیہ کے جن کے حقیقی ہمشیرہ زادہ کی نسبت درخواست کی گئی تھی ۔ نشان