آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 283
روحانی خزائن جلد ۵ ۲۸۳ آئینہ کمالات اسلام صدیقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پر ہیز نہیں کرتے اور باوجود اس تمام بے ادبی ۲۸۳ کے دعوئی محبت مسیح رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیئے کہ بیبل کے رو سے تعدد نکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح کے دادا صاحب بھی شامل ہیں عملاً اس فعل کے جو از بلکہ استحباب پر مہر لگا دی ہے۔ اے نا خدا ترس عیسائیو؟ اگر مہم کیلئے ایک ہی جو رو ہونا ضروری ہے تو پھر کیا تم داؤ د جیسے راست باز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الہی کو لہم ہونے سے خارج کر دو گے ۔ کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل ان انبیاء کا جنکے دلوں پر گویا ہر دم الہام الہی کی تارگی ہوئی تھی اور ہر آن خوشنودی یا نا خوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہورہے تھے ایک دائمی گناہ نہیں ہے جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اسکے حکموں کی کچھ پروانہ کی۔ وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے خمود اور عاد کو ہلاک کیا ۔ لوط کی قوم پر پتھر برسائے ۔ فرعون کو معہ تمام شریر جماعت کے ہولناک طوفان میں غرق کر دیا۔ کیا اس کی شان اور غیرت کے لائق ہے کہ اس نے ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اور داؤد اور سلیمان اور دوسرے کئی انبیاء کو بہت سی بیویوں کے کرنے کی وجہ سے تمام عمر نا فرمان پاکر اور پکے سرکش دیکھ کر پھر ان پر عذاب نازل نہ کیا بلکہ انہیں سے زیادہ تر دوستی اور محبت کی ۔ کیا آپکے خدا کو الہام اتارنے کیلئے کوئی اور آدمی نہیں ملتا تھا۔ یا بہت سی جورواں کرنے والے ہی اس کو پسند آگئے ؟ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نبیوں اور تمام برگزیدوں نے بہت سی جو رواں کر کے اور پھر روحانی طاقتوں اور قبولیتوں میں سب سے سبقت لے جا کر تمام دنیا پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ دوست الہی بننے کے لئے یہ راہ نہیں کہ انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جو رو کرنے کے لیے فکر میں تھے مگر تھوڑی سی عمر میں اٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقش قدم پر چلتے ۔ منہ